سوال نمبر 2687
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام اور مفتیان عظام کی بارگاہ میں اک سوال عرض ہے اس پرفتن دور میں اور خاص کر ملک ہندوستان کی حالات کو دیکھتے ہوئے لاؤڈ سپیکر میں زیادہ آواز کرکے اذان دینا کیسا ہے جس سے کسی غیر مسلم یا کسی بھی شخص کو تکلیف ہو ایسے میں شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
محمد مجسم رضوی کشنگنجوی
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب: اذان اسلام کا عظیم شعار ہے، اسے کہنا اور سنانا باعثِ ثواب اور باعثِ برکت ہے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز ہے، کیونکہ یہ آواز پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے
کما فی الفتاویٰ الھندیة : و السنة أن يؤذن في موضع عال يكون أسمع لجيرانه و يرفع صوته اھ (55/1)
ترجمہ جیسا کہ فتاویٰ ہندیۃ میں ہے سنت یہ ہے کہ اذان کسی بلند جگہ پر دی جائے تاکہ وہ اپنے پڑوسیوں (آس پاس کے لوگوں) کو زیادہ اچھی طرح سنائی دے، اور مؤذن اپنی آواز بلند کرے۔
فتح القدیر میں ہے: وَالْحِكْمَةُ فِي الْعُلُوِّ أَنَّهُ أَبْلَغُ فِي إِسْمَاعِ النَّاسِ (فتح القدير، ج 1، ص 258)
ترجمہ: بلندی کی حکمت یہ ہے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو زیادہ بہتر طور پر سنایا جا سکتا ہے۔
لیکن شریعتِ اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے
"لا ضرر ولا ضرار" (نہ خود نقصان پہنچاؤ، نہ دوسروں کو نقصان دو)
اگر اذان کی آواز ضرورت سے زیادہ بلند ہو یا اس سے کسی غیر مسلم، بیمار، بوڑھے، بچے، طالب علم یا عام لوگوں کو واقعی تکلیف پہنچے یا موجودہ حالات میں اس سے فساد، جھگڑے یا فتنہ کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں آواز کو حدِ اعتدال میں رکھنا ضروری ہے،
رد المحتار: كُلُّ قُرْبَةٍ تُؤَدِّي إِلَى أَذَى الْغَيْرِ تُكْرَهُ (رد المحتار)
ترجمہ: ہر وہ نیکی جو دوسروں کی اذیت کا سبب بنے، مکروہ ہو جاتی ہے۔
لہٰذا اذان اتنی بلند ہو کہ محلے کے مسلمانوں تک پہنچ جائے، مگر چیخ و پکار یا حد سے زیادہ شور کی شکل اختیار نہ کریں ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں موجودہ فتنہ انگیز ماحول میں جب معمولی بات کو بھی مسئلہ بنایا جاتا ہے تو حکمت، مصلحت اور صبر کے ساتھ عمل کرنا عین شریعت اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہے ہاں جس جگہ حکومت کی طرف سے جو پابندیاں عائد ہیں اور جو حد متعین کیا گیا ہے اسی حد میں مائک کو رکھیں اس سے زیادہ بلند نہ کریں خوامخواہ خود کو فتنے میں ڈالنا یہ جائز نہیں ہے کہ خود کو فتنے میں ڈالا جائے پھر حکومت کی طرف سے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے لہذا حالات کے پیش نظر اس کا بھی خیال ضروری ہے
خلاصۂ کلام: لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینا جائز ہے مگر درمیانی اور مناسب آواز کے ساتھ کسی کو اذیت پہنچانا یا فتنہ کا سبب بننا ناجائز ہے شریعت ہمیں عبادت کے ساتھ حسنِ اخلاق اور امن کا بھی درس دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو حکمت، صبر اور حسنِ تدبیر کے ساتھ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار


0 تبصرے