کسی کا نام ملائکہ رکھنا کیسا ہے؟


سوال نمبر 2168

 السلام علیکم و رحمة الله و برکاته ‌ 

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسٔلہ کے بارے میں کہ کسی کا ملائکه نام رکھنا کیسا ہے برائے مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں ؟

المستفتی : سرور رضا بہرایٔچ شریف




وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته

 باسمه سبحانه تعالٰی وتقدس الجواب 

ملائکه جمع ہے ملک کی اور ملائکہ فرشتوں کو کہتے ہیں

کسی کا نام ملائکہ رکھنا ممنوع و مکروہ ہے کیونکہ جب فرشتوں کے نام پر نام رکھنے کی حدیث شریف میں ممانعت آئی ہے تو پھر کسی کا نام ملائکہ بمعنی فرشتے رکھنا بدرجۂ اولی ممنوع ہے


حضرت امام الشیخ ملا علی قاری رحمہ اللہ متوفی ١٠١٤ ھ فرماتے ہیں:

 قال: وكره مالك التسمي بأسماء الملائكة كجبريل. قلت: ويؤيده ما رواه البخاري في تاريخه عن عبد الله بن جرار:سموا بأسماء الأنبياء ولا تسموا بأسماء الملائكة :

امام مالك عليہ الرحمہ نے فرشتوں کے ناموں پر نام رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے جیسے جبریل نام رکھنا میں نے کہا اس بات کی تائید وہ حدیث پاک کرتی ہے جسے امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اپنی تاریخ میں حضرت عبداللہ بن جرار رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھو اور فرشتوں کے ناموں پر نام نہ رکھو ،

( مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح المجلد التاسع کتاب الآداب باب الاسامي ص ١٠ دار الكتب العلمية بيروت لبنان )


،«حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں»

،کہ ملائکہ کے نام پر نام رکھنا ممنوع ہے لہذا کسی چیز کا جبریل یا میکائیل نام نہ رکھو جیساکہ حدیث میں ہے چنانچہ بخاری نے اپنی تاریخ میں ایک حدیث نقل کی کہ نبیوں کے نام پر نام رکھو فرشتوں کے نام پر نام نہ رکھو۔

(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح المجلد السادس باب الاسامی ، ص، ٣١٢ ادبی دنیا )


(ایسا ہی ، نزھۃ القادری شرح صحیح البخاری کتاب الآداب باب الاسامی جلد ٨ صفحہ ٣٤٣ تا ٣٤٨ پر ہے ، أيضا جلد ٩ صفحہ ١٠٩ رضوی کتاب گھر دھلی ، )


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

کتبہ

محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الھند ٢٩ ذوالحجہ ١٤٤٣ ھجری









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney