ہمبستری کرنے کا اسلامی طریقہ اور اس کا مکمل خلاصہ

 سوال نمبر 1119


السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

 کیا فرماتے ہیں مسائل شرعیہ گروپ کے علمائے کرام صورت مسؤلہ میں کہ:(۱) بیوی سے ہمبستری کرتے وقت اس کے شرمگاہ کو دیکھنا کیسا ہے، یا اس کے شرمگاہ میں انگلی کرنا کیسا ہے، (۲) اور ہمبستری کرنے کا اسلامی طریقہ کیا ہے (۳) اور کس پوزیشن میں ہمبستری کرنا جائز نہیں(۴) کیا کھڑے ہو کر ہمبستری کر سکتے ہیں یا جھک کر پوری وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں

المستفتی رحمت شیخ گوآ

 



وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب: (۱) بیوی سے ہمبستری کرتے وقت اس کے شرمگاہ کو دیکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ دیکھنا زیادتی شہوت کا باعث ہے البتہ مباشرت کے آداب میں سے یہ ہے کہ عورت(بیوی) کے شرمگاہ کو نہ دیکھا جائے کیونکہ شرمگاہ دیکھنے سے اگرچہ شہوت ابھرتی ہے مگر آنکھوں کو نقصان ہوتا ہے یعنی آنکھوں کی روشنی کمزور ہوجاتی ہے۔ اور اس کے شرمگاہ میں انگلی کا داخل کرنا جائز ہے مگر بچنا اولیٰ (یعنی زیادہ بہتر) ہے۔اگرچہ اس سے شہوت میں اضافہ ہوتا ہے مگر یہ فعل نہ کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

اور ردالمختار میں ہے: مرد و عورت کو ایک دوسرے کا سطر (شرمگاہ) دیکھنا چھونا جائز ہے مگر حکم یہی ہے کہ مقام مخصوص شرمگاہ کی طرف نہ دیکھا جائے کہ اس سے نسیان یعنی حافظہ کمزور ہونے کا مرض ہوتا ہے اور نگاہ بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ ( ردالمختار، جلد ۵، صفحہ ۲۵۶)

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

"مانظرت او مارایت فرج رسول اللہ ﷺ"  (ابن ماجہ) 

یعنی میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کا ستر کبھی نہ دیکھا۔


(۲) اور ہمبستری کرنے کا اسلامی (بہتر) طریقہ یہ ہےکہ: جب شوہر اپنے بیوی سے ہمبستری کا ارادہ کرے اور بالخصوص شادی کی پہلی رات جسے  سہاگ رات بھی کہتے ہیں اور اس کے بعد جب بھی تو شوہر کو چاہئے کہ ان آداب و طریقہ کار کے مطابق عمل کرے ان شاء اللہ شیطان کی دست برد یعنی مداخلت سے محفوظ رہو گے اور نیک صالح اولاد پیدا ہوگی اس کے بعد شوہر اپنی دلہن کی پیشانی کے تھوڑے سے بال نرمی اور محبت کے ساتھ پکڑ کر یہ دعا پڑھے۔ "اللہم انی اسئلک خیرھا وخیر ماجبلتھا علیہ واعوذبک من شرھا وشر ماجبلتھا علیہ" (ابوداؤد صحہ ۲۹۳)۔

پھربیوی سے ایسی باتیں کرے جس سے اس کے شہوت میں غلبہ پیدا ہو۔

حضور ﷺ نےارشاد فرمایا کہ کوئی شخص مثل چوپائے کے اپنی زوجہ پر نہ جا پڑے بلکہ اس کو چاہئے کہ پہلے بوس و کنار اور آہستہ بات چیت سے آمادہ کرے۔

اور جب اس سے مباشرت کرےتو بہتر یہ ہے کہ عورت کمر کے بل سیدھی لیٹے اور مرد اس کی دونوں رانوں کے درمیان آکر فعل مباشرت میں مشغول ہو ۔ 

قرآن مقدس میں ہے: "فَلَمَّا تَغَشّٰھَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا" (سورۃ الاعراف آیت ۱۸۹)

ترجمہ: پھر جب مرد اس عورت پر چھایا تو اسے ایک ہلکے سے بوجھ کا حمل ہوگیا۔

یعنی اس کی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ عورت کمر کے بل  لیٹے اور مرد اس کے دونوں رانوں کے درمیان تو اس طرح مرد کے جسم سے عورت کا جسم  ڈھک جاتا ہے۔ یہی اسلامی اور بہتر طریقہ ہے۔


(۳) اور حیض کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کرنا جائز نہیں۔

 قرآن مقدس میں ہے: "وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ" ۔

ترجمہ: اور تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک پاک نہ ہوجائے پھر جب خوب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس وہاں سے جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔

اور افراط و تفریط کی راہیں چھوڑ کر اعتدال کی تعلیم فرمائی گئی اور بتادیا گیا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے ہمبستری کرنا حرام ہے اور چونکہ یہ قرآن کی واضح آیت سے ثابت ہے لہذا ایسی حالت میں جائز جاننا کفر ہے اور حرام سمجھ کر کرلیا تو سخت گنہگار ہے اور اس پر توبہ فرض ہے۔ (بہار شریعت جلد اول صفحہ ۳۸۲)


(۴) عورتوں سے کھڑے ہوکر یا لیٹ کر یا بیٹھ کر یا جھک کر ہر طرح سے ہمبستری کرنا جائز ہے مگر کھڑے ہوکر ہمبستری کرنے سے بدن کمزور اور ضعیف ہوجاتا ہے۔ اور بعض کتب میں ہے کہ کھڑے ہوکرہمبستری کرنے سے رعشہ کا مرض ہوجاتا ہے۔  

قرآن مقدس میں ہے: " نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۪-فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ٘

  ترجمہ: تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔

اور اس آیت کے تعلق سے تفسیر صراط الجنان میں ہے: عورتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی عورتوں کی قربت سے نسل حاصل کرنے کا ارادہ کرو، نہ کہ صرف اپنی خواہش پوری کرنے کا۔ نیز عورت سے ہر طرح ہمبستری جائز ہے لیٹ کر بیٹھ کر کھڑے کھڑے بشرطیکہ صحبت اگلے مقام میں ہو کیونکہ یہی راستی کھیتی یعنی اولاد کا ثمرہ حاصل کرنے کا ہے۔  واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


کتبہ: غلام محمد صدیقی فیضی

متعلم( درجہ تحقیق سال دوم) دارالعلوم اہل سنت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی الہند


۲۰/ صفر المظفر ۱۴۴۲ ہجری 

مطابق ۷/ اکتوبر ۲۰۲۰ بروز بدھ









ایک تبصرہ شائع کریں

12 تبصرے

  1. بے پناہ خوشی ہوئی، مسائل شرعیہ کو پڑھ کر، اللّٰہ کریم اپنے حبیب کے صدقے میں دن دونی رات چوگنی ترقی فرمائے۔
    ایڈمن صاحب کو بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔
    لیکن ایک چھوٹی سی گذارش ہے۔
    اس کا ایپلیکیشن بھی تیار کریں، جسے پلے اسٹور سے ڈائون لوڈ کیا جا سکے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. السلام علیکم
    سوال میں نے مغرب کی نماز دو رکعت جماعت کے ساتھ ادا کیا باقی ایک رکعت نماز میں سورہ فاتحہ کے ساتھ دوسرا سورت ملائیگے یا نہیں جواب عنایت فرمائے مہربانی ہوگی

    سائل محمد دراز الحق

    جواب دیںحذف کریں
  3. احادیث وغیرہ کا حوالہ بھی پیش کریں

    جواب دیںحذف کریں
  4. اسلام و علیکم
    مخترم مسلہ پوچھنا تھا کے ایک بندے نے ایک عورت سے صخبت کی وہ عورت خاندان میں تایا ابو کے بیٹے کی بیگم تھی اس صخبت سے ایک بیٹی ھو گئی جو کے تا خیات ھے اب اس کا کفارہ کیا ھو گا؟

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. ہمبستری کس نے کی اور جس نے ہمبستری کی وہ رشتے میں کیا لگتا ہے

      حذف کریں
  5. بیٹے اور بیٹی کا اچھا نام بتائیں آپکی مہربانی ہوگی۔
    بیٹے کا میزان ،یا مہران ،شیبان نام رکھنا کیسا ہے اور بیٹی کا حیاء، ایمان نام رکھنا کیسا ہے معانی کے ساتھ اچھے سے بتائیں۔

    جواب دیںحذف کریں

Created By SRRazmi Powered By SRMoney