کیا کسی کی منت کوئی دوسرا پورا کر سکتا ہے؟


سوال نمبر 2123

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک ضعیف عورت نے منت دس نمازوں کی مانی تھی اب انہیں کولہے کا فریکچر ہوگیا ہے اور وہ بستر پر ہیں، کیا ان کی یہ منت ان کی بیٹی ادا کرسکتی ہے؟ جواب جلد از جلد عنایت فرمایں مہربانی ہوگی۔

(سائل:طفیل احمد، انڈیا)


 


وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ 

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:

 اس کی اجازت نہیں ہے، لہٰذا وہ ضعیف عورت جس طرح ممکن ہو، خود ہی اپنی منت پوری کرے۔ چنانچہ علامہ محمد بن عبد اللہ تمرتاشی حنفی متوفی١٠٠٤ھ اور علامہ علاء الدین حصکفی حنفی متوفی١٠٨٨ھ لکھتے ہیں:

(ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة)

 (تنویر الابصار وشرحہ الدر المختار،ص٢٠١٧) 

   اس کے تحت علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی١٢٥٢ھ لکھتے ہیں:(قوله لزم الناذر) أي لزمه الوفاء به۔

(رد المحتار،ص٢٠١٧)

   اور پھر نماز ایک بدنی عبادت ہے، لہٰذا کسی کی طرف سے دوسرا اسے ادا نہیں کرسکتا ہے۔چنانچہ علامہ تمرتاشی اور علامہ علائی لکھتے ہیں:

(وَالْبَدَنِيَّةُ) كَصَلَاةٍ وَصَوْمٍ (لَا) تَقْبَلُهَا (مُطْلَقًا)۔ 

(تنویر الابصار وشرحہ الدر المختار،ص١٢٥٤)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:

محمد اُسامہ قادری

پاکستان، کراچی

بدھ،٣٠/شوال،١٤٤٣ھ۔١/جون،٢٠٢٢ء









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney