سحری میں انڈا کھانا کیسا ہے؟


سوال نمبر 2122

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سحری میں انڈا کھانا کیسا ہے کھاسکتے یا نہیں؟ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی حضرت

(ساٸل:سید رفیق الدین قادری کاماریڈی تلنگانہ، انڈیا)




وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:

حلال جانور کا انڈا چاہے سحری میں کھائیں یا افطار کے وقت، جب چاہیں کھاسکتے ہیں کوئی گناہ نہیں ہے۔چنانچہ کتاب "الموسوعۃ الفقھیۃ" کی جلد پنجم کے صفحہ١٥٣ پر ہے:ان خرج البیض من ماکول فی حال حیاتہ، او بعد تذکیتہ شرعاً، او بعد موتہ، وھو مما لا یحتاج الی التذکیۃ کالسمک، فبیضہ ماکول اجماعا، الا اذا فسد۔

یعنی،اگر انڈا ایسے جانور سے اس کے زندہ ہونے کی حالت میں یا اسے شرعی طریقے سے ذبح کرنے کے بعد نکلے کہ جسے کھایا جاتا ہو یا ایسے جانور سے کہ اس کی موت کے بعد نکلے جسے ذبح کرنے کی حاجت نہیں ہے جیسے مچھلی، تو اس کا انڈا کھانا بالاجماع حلال ہے مگر جبکہ انڈا خراب ہوجائے تو پھر اسے نہیں کھاسکتے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:۔

محمد اسامہ قادری

پاکستان،کراچی

جمعرات،١٢/رمضان،١٤٤٣ھ۔١٣/اپریل،٢٠٢٢ء









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney