آپ قوم کی بہتری کے لئے کچھ ہدیہ کریں کلک کریں

روزہ کی منت مانی اور بیمار ہو گیا تو کیا حکم ہے؟

سوال نمبر 375

السلام عليكم و رحمت اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے میں کہ کسی عورت نے منت مانی کی اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں محرم میں دس روزہ رکھونگی اور اس عورت کا کام ہو گیا پر اب اس کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تو کیا اس کی بیٹی اس کے منت کا روزه رکھ سکتی ہے مہربانی کرکے جواب ارسال فرمائیں
 سائل محمد شمس فیضی فیض آبادی

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ
جواب: اگر وہ عورت واقعی ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس سے صحتیاب ہونے کی امید نہیں، یا روزے رکھنے کی طاقت نہیں، تو اس صورت میں اس کے روزوں کی قضا یا کفارہ دوسرا شخص (مثلاً اس کی بیٹی) ادا نہیں کر سکتا۔
کیونکہ منت کے روزے بدنی عبادت ہیں، جیسے نماز و روزہ فرض جن میں نیابت (کسی دوسرے کا قائم مقام بننا) درست نہیں۔
البتہ اگر عورت فوت ہوجائے اور اس نے منت کے روزے باقی چھوڑے ہوں، تو اس کے وارث یا کوئی قریبی شخص اس کی طرف سے روزے رکھ سکتا ہے۔
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ (بخاری، مسلم)
جس شخص پر روزے باقی ہوں اور وہ فوت ہو جائے تو اس کا ولی (قریبی) اس کی طرف سے روزے رکھے۔
اگر بیماری عارضی ہے، یعنی بعد میں صحت کی امید ہے، تو جیسے ہی صحت ہو جائے، خود وہ روزے رکھنا لازم ہوں گے۔ کسی دوسرے کے لیے اس کی طرف سے روزہ رکھنا درست نہیں۔
اگر بیماری دائمی ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے روزے رکھنا ممکن نہیں، تو ایسی حالت میں وہ شخص روزے نہ رکھے بلکہ فدیہ ادا کرے۔
 فدیہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا (یا اس کے برابر رقم) دینا لازم ہے۔
یعنی اگر دس روزوں کی منت تھی، تو دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا دس دن ایک ایک مسکین کو دو وقت کا کھانا دینا۔
تقریباً فدیہ کی مقدار یہ ہے کہ ہر روزے کے بدلے میں صاع کے نصف (تقریباً 1.5 کلو گندم یا اس کی قیمت)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقرۃ: 184)
یعنی جو بیمار ہو وہ بعد میں روزے رکھے۔
اور جو کبھی روزہ رکھنے کے قابل نہ ہو (جیسے دائمی مریض یا بوڑھا)،
اس کے بارے میں فرمایا وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ (البقرۃ: 184) اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ
مفتی محمد مدثر جاوید



ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney