مروجہ تعزیہ داری کیا ہے؟

سوال نمبر 376

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
مروجہ تعزیہ داری کیا ہے؟ آخر اس کی تفصیل کیا ہے اور دور حاضر میں جو تعزیہ رکھا جاتا ہے کیا یہ مروجہ میں شامل نہیں ہے؟
سائل  :-  نورالھدی




وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
      جـــــــــــوَاب:
 مروجہ تعزیہ داری ناجائز وحرام ہے کہ اس میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں مثلاً تعزیہ کا جلوس آگے پیچھے ڈھول تاشے باجے فلمی گیت عورتوں کا ہجوم اور اسی طرح کے اور خرافات جو آجکل کی تعزیہ داری میں کئے جاتے ہیں  یہ ناجائز وحرام ہے لوگ ان بیہودہ باتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور جو لوگ اسکی تائید کرتے ہیں سب گنہگار ہیں
 اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ تعزیہ کی اصل اس قدر تھی کہ روضہ امام حسین کی صحیح نقل بناکر بنیت تبرک مکان میں رکھنا اس میں کوئی خرابی نہ تھی جہاں پہ خرد نے اس اصل جائز کو نیست ونابود کرکےصدہا خرافات تراشیں کہ شریعت مطہرہ سے الاماں الاماں کی صدائیں آنے لگیں اول تو نفس تعزیہ میں روضہ مبارک کی نقل ملحوظ نہ رہی ہر جگہ نئی تراش کہیں علاقانہ نسبت وغیرہ پھر کوچہ بکوچہ گلی بگلی اشاعت غم کےلئےپھرانا ان کے گرد ماتم زنی کرنا اس سے منتیں مانگنا اس پہ کوئی چیز چڑھانا اور راتوں میں ڈھول باجے کے ساتھ طرح طرح کے کھیل کرنا وغیرہ وغیرہ اب جبکہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے جو قطعاً بدعت ناجائز وحرام ہے
 فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۵۱۳
ایسے ہی لہو ولعب کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے 
 وذر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھوا وغرتھم الحیوۃ الدنیا (پارہ ۷)

 اور ان لوگوں سے دور رہو جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ دے دیا ہے
اور ایک جگہ ہے 
 الذین اتخذوا دینھم لہوا ولعبا وغرتھم الحیوۃ الدنیا الخ (پارہ ۸)

جن لوگوں نے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکہ میں ڈال دیا آج انہیں ہم چھوڑ دینگے جیسا کہ انہوں نے اس دین ملنے کا خیال چھوڑ رکھا تھا اور جیسا وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے        

ان آیات کو دھیان میں رکھ کر دیکھیں کہ کیسے آج تعزیہ داری اور قوالی وغیرہ کے نام پر دین کو تماشا بنا دیا گیا ہے اورحدیث پاک میں ہے

 امرنی ربی عزوجل یمحق المعازف والمزامیر

 مشکوۃ المصابیح کتاب الامارہ فصل ثالث صفحہ ۳۱۸ 
اس کے علاوہ ایک اور حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو ڈھول باجے کو حلال کرلینگے
 بخاری شریف جلد دوم کتاب الاشربہ صفحہ ۸۳۷ 
اس حدیث سے بھی عبرت حاصل کرسکتے ہیں کہ آج ہم کیا کر رہے ہیں علمائے اہلسنت کے اقوال سے بھی ظاہر ہے کہ مروجہ تعزیہ داری ناجائز وحرام ہے چنانچہ
 حضرت محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ داری در عشرہ محرم وساختن ضرائح وصورت درس نیست)*
یعنی عشرہ محرم میں جو تعزیہ داری ہوتی ہے وہ حرام ہے
 فتاویٰ عزیزیہ جلد اول صفحہ ۷۵
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ اس طرح کی تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے جو قطعاً بدعت وناجائز و حرام ہے 
 فتاویٰ رضویہ جلد ۲۴ صفحہ ۵۱۳  مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور 
کچھ لوگ کہتے ہیں بنانا جائز ہے گھمانا ناجائز اعلی حضرت نے اسکا بھی رد فرمایا اور لکھتے ہیں مگر اس نقل میں بھی اہل بدعت  سے ایک مشابہت اور تعزیہ داری کی تہمت کا خدشہ اور آئندہ اپنی اولاد واہل اعتقاد کے لئے ابتلاء بدعت کا اندیشہ ہے لہذا روضہ سید الشہداء کی ایسی تصویر بھی نہ بنائ جاۓ
 فتاویٰ رضویہ جلد ۲۴ صفحہ ۵۱۳
حضور مفتی اعظم ہند فرماتے ہیں کہ مروجہ تعزیہ داری شرعا ناجائز وحرام ہے    فتاویٰ مصطفویہ صفحہ ۵۳۴ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
اور جتنے علمائے کرام ہیں تمام کے نزدیک یہ ناجائز وحرام ہے  مثلاً حضور صدرالشریعہ مولاناحشمت علی خان علیہ الرحمہ والرضوان وغیرہ 
لہذا مسلمانوں کو ان سب سے پرہیز کرنا لازم و ضروری ہے اور ایک بات کچھ نام نہاد مولوی پہلے بھی تھے، اور آج  بھی کچھ خانقاہیں اور مولوی موجود ہیں جو اپنا نام چمکانے کے لئے اور پیٹ بھرنے کے  لئے اسے جائز کہہ رہے ہیں مسلمانوں کوایسےلوگوں سے بھی پرہیز کرنا چاہئے

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ
 محمد شفیق رضا رضوی








ایک تبصرہ شائع کریں

3 تبصرے

  1. برائے مہربانی جو عبارت خواہ عربی ہو یا اردو پیش کی جاتی ہیں اس کا ترجمہ بھی لکھ دیں تاکہ پڑھنے والوں کو آسانی ہو

    جواب دیںحذف کریں
  2. مولانا حشمت علی خاں لکھنوی علیہ الرحمہ کا لقب شیرِ بیشۂِ اہل سنت تھا۔
    صدر الشریعۃ کا لقب مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کو ملا جنھوں نے بہارِ شریعت لکھی۔

    جواب دیںحذف کریں

Created By SRRazmi Powered By SRMoney