کیا شام کو جھاڑو لگانے سے گھر کی برکت چلی جاتی ہے؟

سوال نمبر 1077


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ آج جو عوام میں مشہور ہے کہ مغرب کی اذان کے بعد گھر میں جھاڑو نہیں لگانا چاہیے کہ جھاڑو لگانے سے برکت چلی جاتی ہے گھر سے 

تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط جواب عنایت فرمائیں

المستفتی:-  محمد نوازش رضا سمستی پور بہار





وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب


عوام میں غلط مشہور ہے صفائی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے یہ سب جہالت پر مبنی باتیں ہیں کہ شام کے وقت جھاڑو لگانا ٹھیک نہیں ہے۔ مغرب کی اذان کے بعد جھاڑو لگانے سے برکت چلی جاتی ہے ایسی سوچ رکھنا، جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے 

 قرآن و حدیث میں صفائی کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے، جب بھی صفائی کی ضرورت ہو اسے کرنا چاہیے۔ بالفرض شام کے وقت آپ کے گھر میں گندگی پھیل جائے اور پورے گھر میں اس گندگی سے بدبو پھیل جائے تو کیا آپ صبح تک انتظار کریں گے؟ اس لیے صفائی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ جب بھی اس کی ضرورت ہو اسی وقت اسے کرنا چاہیے تو یہ زیادہ مستحسن ہے۔

کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا :

  إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ

بیشک ﷲ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے


(پارہ ۲ سورۃ البقرہ  آیت ۲۲۲)


اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا 

صفائی نصف ایمان ہے۔ 

      (صحیح مسلم) 

لہٰذا صبح ہو یا شام، رات ہو یا دن، ہر وقت جب صفائی کی ضرورت پڑے تو اسے کرنا چاہیے۔

 یہی اسلام کی منشاء  ہے، 


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب


     کتــــــبـہ

فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ


٤/ صفر المظفر ١٤٤٢ہجری

 ۲۲/ ستمبر ۲۰۲۰عیسوی  بروز سہ شنبہ









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney