سوال نمبر 1180
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیانِ عظام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ سردیوں میں ٹھنڈک کی وجہ سے لوگ چادر اوڑھ کر نماز پڑھتے ہیں اس طرح سے کہ ہاتھ چادر کے اندر ہوتے ہیں۔تو کیا نماز ہو جاۓ گی؟ جواب عنایت فرمائیں بینوا وتوجروا۔
المستفتی۔۔ محمود احمد قادری جموں و کشمیر۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
الجواب بعون الملک العزیز الوہاب۔
سردی میں ٹھنڈ کی وجہ سے اس طرح چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کہ ہاتھ آسانی کے ساتھ باہر نکالا جاسکے اور سجدہ وغیرہ سب اچھے سے کیا جا سکے اور چادر کے دونوں کنارے نہ لٹک رہے ہوں مثل صدل تو ہاتھ ڈھکے رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں
مسلم شریف میں ہے:
وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ کَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَی عَلَی الْيُسْرَی فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نماز میں داخل ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر تکیبر کہی اور ہمام نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ اپنے کانوں تک اٹھائے پھر آپ ﷺ نے چادر اوڑھ لی پھر دائیں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا جب آپ ﷺ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے نکال لیا (مسلم شریف حدیث نمبر 896)
’’التحف بثوبہ‘‘کے تحت ملا علی قاری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :’’قال ابن الملک ولعل التحاف یدیہ بکمیہ لبرد شدید ‘‘یعنی: ابن ملک نے فرمایا شاید ہاتھوں کو لپیٹنا شدیدسردی کی وجہ سے تھا ۔
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،ج2،ص657،مطبوعہ دار الفکر،بیروت)
لیکن چادر کو اس طرح لپیٹ لینا کہ ہاتھ باہر نکالنا دشوار ہو یا ادائیگی نماز میں خلل ہو تو مکروہ تحریمی ہے،۔
جیسا کہ حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ الرحمن مکروہات نماز کے بیان میں تحریر فرماتے ہیں:
کپڑے میں اس طرح لپٹ جانا کہ ہاتھ بھی باہر نہ ہو مکروہ تحریمی ہے، علاوہ نماز کے بھی بے ضرورت اس طرح کپڑے میں لپٹنا نہ چاہئے اور خطرہ کے جگہ سخت ممنوع ہے۔
(بہار شریعت مطبوعہ دعوت اسلامی، جلد ۱، حصہ ۳، صفحہ ۶۲۶ )
خیال رہے سردی کے باعث چادر اوڑھنا اور ہاتھ کا چادر کے اندر ہونا یہ لپیٹنا نہیں ہوتا ہے بلکہ آسانی کے ساتھ رکوع و سجود میں ہاتھ باہر نکل جاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس طرح چادر لپیٹ لیتا ہے کہ ہاتھ آسانی سے نہیں نکلتا اور نماز میں خلل ہوتی ہے تو یہ ضرور لپیٹنا ہے جو مکروہ تحریمی ہے
والله و رسولہ اعلم بالصواب۔
کتبہ
محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی خطیب و امام سنی غوثیہ جامع مسجد شانتی نگر بھیونڈی


0 تبصرے