کافر کو جہنمی کہنا کیسا؟

سوال نمبر 1503

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں زید کا کہنا ہے کہ کافر کو کافر کہہ سکتے ہیں لیکن جہنمی نہیں کہہ سکتے زید نے حوالہ حدیث پاک سے دیا ہے حضور صلی االلہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا ہےاور زید نے یہ بھی کہا حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ پہلے کافر تھے بعد میں ایمان لائے اور خلیفہ دوم کا مرتبہ ملا  حضور والا کی بارگاہ میں عرض خدمت ہے کہ زید کا کہنا درست ہے کہ نہیں حدیث شریف کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی

محمد انیس رضا خان قادری بہرائچ شریف یوپی الہند

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

   بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ھدایت الحق والصواب 

 زید نے جو یہ کہا کہ کافر کو جہنمی نہیں کہہ سکتے بالکل غلط اور حکم قرآن کے خلاف ہے قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے 

ان الذین کفروا من اھل الکتاب والمشرکین فی نار جہنم خالدین فیہا اولئک ھم شرالبریة بیشک اہل کتاب میں سے جو کافر ہوئے وہ اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہینگے وہی تمام مخلوق میں سب سے بدتر ہیں (سورة البينة پارہ ۳۰ ترجمہ کنزالایمان )


معلوم ہوا کافر کو جہنمی کہنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں بلکہ وہ اسی کا مستحق ہے اسی آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں ہے کفر جہنم میں داخل ہونے کا یقینی سبب ہے کافر چاہے کتابی ہو یا مشرک جہنم میں ہمیشہ رہے گا اگرچہ انکے کفر کی وجہ سے انکے عذاب کی نوعیت جدا ہو(تفسیر صراط الجنان سورہ نمبر ۹۸ آیت نمبر ۶ )

اور جو اس نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیا ہے وہ غلط ہے کہ ایمان لانے کے بعد اب کافر کہاں جب کافر ایمان لے آئے گا تو مسلمان کہا جائے گا نہ کہ کافر، لہٰذا زید اگر سنی صحیح العقیدہ ہے تو اس پر لازم ہے کہ صدق دل سے توبہ کرے اور بغیر علم کے دوبارہ مسئلہ نہ بیان کرے. واللہ اعلم بالصواب 


         کتبہ

 العبد ابوالثاقب محمد جوادالقادری واحدی لکھیم پوری









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney