کیا اولیائے کرام زندہ ہیں ؟نیز ان سے کس طرح مدد طلب کریں ؟

 سوال نمبر 1575

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں

1) کیا اولیاۓ کرام اپنی قبروں میں ایسے زندہ ہیں کہ جیسے ہم؟

2) کیا اولیاۓ کرام سے جیسے ظاہری حیات میں مانگتے تھے ویسے وصال کے بعد بھی مانگ سکتے ہیں؟

3) نیت یہ ہے کہ اولیاء کرام اللہ پاک کی عطاء سے مدد کرتے ہیں تو کیا ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ سرکار ہمیں عطاء کیجئے یا یہ کہیں کہ سرکار ہمیں اللہ پاک کی عطاء سے عطاء کیجئے ؟

براے مہربانی بحوالہ جواب ارسال فرمائیں۔

المستفتی : محمد غلام مصطفے رضا رضوی ۔ ونوبا بھاوے نگر ناگپور مہاراشٹر الہند 

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔

الجواب:

 (1) اولیاۓ کرام بعد وفات زندہ ہیں اوراللہ نے ہم سے بہتر زندگی انہیں بخشا ہے۔

سیدی سرکار اعلی حضرت نوراللہ مرقدہ رقم فرماتے ہیں :

اولیاۓ کرام بعد وفات زندہ ہیں  مگر نہ مثل حضرات انبیا ٕ علیھم الصلوة و السلام۔

اولیاء کرام کی حیات  انبیاء کرام  سے کم اور شہداء سے زاٸد ہے۔یہ حیات حیات روحانی وجسمانی برزخ ہے

(فتاوی رضویہ ج٢٩،رضافاٶنڈیشن،لاہور)

(2)جی بالکل مانگ سکتے ہیں ۔

اشعة اللمعات باب زیارت القبورمیں ہے:حضرت امام غزالی نے فرمایا "ہرکہ استمداد کردہ شود بوئے درحیات استمدادکردہ می شود بوۓ بعد از وفات" جس  سے زندگی میں مددمانگی جاتی ہے اس سے ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگی جاوے۔

حاشیہ مشکوة باب زیارة القبور میں ہے :قال الامام الشافی قبر موسی الکاظم تریاق مجرب لاجابة الدعاء

"ترجمہ" حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ موسی کاظم کی قبر قبولیت دعا کے لۓ آزمودہ تریاق ہے ۔

 صوفیا ٕکرام اور  فقہا ٕ اہل کشف کے اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ بعد وفات بھی  مددمانگنا جاٸز ہے۔

(3)مذکورہ دونوں صورتیں جاٸز کی ہے۔

 فتاوی رضویہ شریف میں ہے:اولیاۓ کرام سے طلب دعا ٕ بلاشبہ محمود ہے (ج٢٩،رضا فاٶنڈیشن ،لاہور)

درمختار میں ہے :جس کسی کی کوٸی چیز گم ہوجاۓ اور وہ چاہے کہ خدا وہ چیز واپس ملادےتوکسی اونچی جگہ پر قبلہ کو منہ کرکے کھڑا ہو اور سورہ فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب  نبی ﷺ کو ہدیہ کرے پھر سیدی احمد بن علوان کو۔پھر یہ دعا پڑھے "یاسیدی یا احمد ابن علوان  ان لم ترد علی ضالتی والا نزعتک من دیوان الاولیا ٕ فان اللہ  یرد ضالتہ ببرکتہ" اےمیرےآقا اےاحمدبن علوان اگرآپ نے میری چیز نہ دی تو میں آپ کو دفتراولیا ٕ سے نکال دونگا۔پس خداتعالی اس کی گمی ہوٸی چیز ان کی برکت سے ملادے گا (درمختار ج ٣،باب اللقط،بحوالہ جا ٕ الحق ،ص١٩٠)

حضرت ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ سیدنا حضور غوث اعظم رضی اللہ عالی عنہ کا یہ قول نقل فرمایا:من استغاث بی  فی کربة کشفت عنہ"جوکوٸی رنج وغم میں مجھ سے مددمانگے تواس کا رنج وغم دور ہوگا۔

پھراسی جگہ ہے کہ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ نماز غوثیہ کی ترکیب بتاتے ہوۓ آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ بعدسلام ١١ بارصلوة وسلام پڑھ کر کر بغداد کی طرف جانب شمال ١١ قدم چلے اورہرقدم پر میرا نام لے کراپنی حاجت عرض کرے اوریہ شعر پڑھے:ایدرکنی ضیم وانت ذخیرتی " واظلم فی الدنیا وانت نصیری۔

وعارعلی حامی الحمی وھو منجدی " اذاضاع فی البیدا عقال  بعیری ۔

یہ کہ کر ملا علی قاری فرماتے ہیں "وقد جرب ذلک مرارا فصح"

یعنی بارہا اس نماز غوثیہ کا تجربہ کیا گیا درست نکلا(نزہة الخاطروالفاترفی ترجمةسیدی الشریف عبدالقادر،ص٦١)

مذکورہ عبارتوں سے یہ بات واضح ہوگٸی کہ اولیا ٕ کرام سے یوں براہ راست  دعاٶں میں یوں  عرض کرسکتے  ہیں کہ سرکار ہمیں عطا کردیجۓ ،کیجۓ۔

اوریہ محض قیاس نہیں بلکہ قرآن شاہد ہے:حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنھا سے کہا "قال انماانا رسول ربک لاھب لک غلامازکیا"اےمریم میں تمہارےرب کا قاصد ہوں تاکہ تم کو پاک فرزند دوں۔

معلوم ہواکہ جبرٸیل بیٹا دیتے ہیں۔اس طرح کی کٸی ایک مثال قرآن مقدس میں  موجود ہے جس سے یہ بات کی وضاحت ملتی ہے کہ اولیا ٕ کرام وغیرہ کو حاجت روا جاننا شرک نہیں۔

اور مومن ان اولیا ٕ کرام کو محض بندہ ہی مان کر ان کو اس طرح کا حاجت روا مانتے ہیں۔ کیونکہ حقیقی مشکل کشا تو رب ذوالجلال ہی ہے ،اورحاجت مند بالواسطہ اللہ تعالی ہی سے مانگ رہا ہوتاہے نہ کےصاحب قبر سے لیکن یہ اسلوب اختیار کرنا بطریق مجازہے ۔

اوریہ کہنا کہ سرکا ر ہمیں اللہ پاک کی عطا سے عطا کیجۓ "اس بات میں تو کوٸی اعتراض ہی نہیں۔

دعاکرنے کا دوسراطریقہ یہ ہے کہ "اے مولا اس صاحب مزار کی برکت سے اوراس رحمت وعنایت کے صدقے جوتونے اس صاحب مزار پرکی ہے اوراسے عظمت وبزرگی عطا فراٸی ہے ،میری فلاں حاجت کو پورافرما،کیونکہ حقیقی عطا کرنے والا اورمرادیں پوری کرنے والا تو ہے۔

  واللہ تعالی اعلم۔

           کتبہ:

ابوکوثرمحمد ارمان علی قادری جامعی ،بھگوتی پور۔

مدرسہ اصلاح المسلمین ،مہیسار،دربھنگہ(بہار)

٣٠/شوال المکرم ١٤٤٢ھ۔


فتاوی مسائل شرعیہ









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney