آپ قوم کی بہتری کے لئے کچھ ہدیہ کریں کلک کریں

الکوحل ملی اگر بتی استعمال کرنا کیسا؟


سوال نمبر 1964

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں مسجد کے اندر اگر بتی لگانا کیسا ہے جبکہ سنا ہےکہ اس میں  سینٹ کی ملاوٹ ہوتی ہے ؟

 المستفتی: غلام رسول رضوی جودپور  راجستھان



وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 الجواب بعون الملک العزیز الوھاب:

اگربتی  مسجد میں جلانا جاٸز ہے جبکہ الکوحل کی آمیزش والی نہ ہواور نمازیوں کو تکلیف نہ ہوتی ہو ۔البتہ یہ یادرہے کہ اگربتی  سلگانے کے لۓ ماچش مسجد میں نہ جلاٸیں بلکہ مسجد کے باہر سلگالیں پھر اندر لاٸیں۔ کیونکہ اس سے بارود کی بونکلتی ہے ۔ حکم ہے کہ  مسجدکوخوشبوداررکھاجاۓ اوربدبو سے بچایاجاۓ بلکہ بچانا واجب ہے۔


فتاوی رضا دار الیتامی، میں ہے کہ:مشہور ہے کہ سینٹ میں الکحل کی آمیزش ہوتی ہے اور الکحل شراب کی ایک قسم ہے اور شراب ام الخبائث ہے اور ناپاک ہے اور مسجد عبادت الہی کا ایک مقدس ستھرا اور پاکیزہ مقام ہے جسے ہر نجاست اور ناپاک چیزوں سے بچانا ضروری و لازم ہے لہذا اگر تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ اس اگر بتی میں مذکورہ سینٹ کی آمیزش اور ملاوٹ ہے تو ایسی اگربتی مسجد میں سلگانا جائز نہیں بلکہ ایسی اگربتی کو مسجد میں لے جانا ہی جائزنہیں۔

نیز اگر اگربتی کے دھوٸیں سے نمازی کو کھانسی یا چھینک وغیرہ آنے کا اندیشہ ہو تو اس کے تحت آگے لکھتے ہیں کہ:اس صورت میں بھی مسجدمیں اگربتی کو سلگانے سے بچنا ضروری ہے بلکہ مسجدکے باہر کسی قریبی حصے میں سلگانے سے اگردھواں مسجدکے اندر آۓ اوراس سے نمازیوں کو تکلیف ہوتو اس جگہ بھی سلگانے سے بچنا چاہیۓ 

 (صفحہ ۱۳۵ مکتبہ مدنی بکڈپو دھلی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ

محمد معراج رضوی براہی سنبھل




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney