سوال نمبر 2067

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 

بعدہ عرض خدمت یہ ہے کہ مسجد میں کانتر وغیرہ مار سکتے ہیں جواب عنایت فرمائیں 

المستفتی :- راشد علی ۔یوپی





وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون اللہ و رسولہ 

اگر کانتر سے مراد واقعی مینڈک ہے تو اسکو مارنا منع ہے اس لیۓ اسکو بھگادیں! 

حدیث شریف میں ہے ۔۔۔۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ قَتْلِ الصُّرَدِ وَالضِّفْدَعِ وَالنَّمْلَةِ وَالْهُدْهُدِ


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹورا(ایک چھوٹا سا پرندہ)،مینڈک ، چیونٹی اور ہُد ہُد کو قتل کرنے سے منع فرمایاہے


سنن ابن ماجہ ابواب الصید ، ص٢٣٢

{مکتبہ تھانوی دیوبند}


اور اگر اس کانتر سے مراد کنکھجورا ہے تو اسکو مارناچاہیۓ کہ یہ موذی ہے احادیث میں موذی جانوروں کو مارنےکا حکم دیا گیاہے 


واللہ و رسولہ اعلم 

عبیداللہ حنفی بریلوی