دولھا دلہن کو مرد و عورت کے مابین بٹھا کر ولیمہ کرنا کیسا ہے؟


سوال نمبر 2104

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے متعلق

زید کی شادی ہوئی بارات واپسی کے بعد زید نے اپنے مکان کی چھت پر ٹینٹ وغیرہ لگا کر دو کرسیاں بچھا کر زید اور اس کی بیوی بیٹھ گئے بعدہ عورت مرد محرم غیر محرم سب مخلوط ہو گئے تصویر کشی ہونے لگی عمرو بکر خالد وغیرہ کو ناگوار گزرا تو انہوں نے منع کیا تو زید اور اسکے والد چچا ماں اور محلے کے دیگر لوگ کہنے لگے کہ ولیمہ ہو رہا ہے عمرو بکر خالد وغیرہ کو اپنے دروازے سے بھگا دیا یہ کہتے ہوئے کہ ولیمہ اسی طرح ہوتا ہے

جاننا یہ چاہتا ہوں کہ مذکورہ زید اور اسکے باب ماں چچا اور محلے کے دیگر لوگوں کے متعلق شریعت میں کیا حکم ہے

فقط والسلام 

سید غلام احمد رضا گڑھوا جھارکھنڈ




وعلیکم السلام رحمۃ اللہ و برکاتہ

 الجواب بعون الملک الوہاب

 زید اور اس کے اھل خانہ و عشیرہ کا بوقت واپسی بارات چھت پر ٹینٹ وغیرہ لگا کر غیر محرموں کے سامنے بنام ولیمہ زید کی بیوی کی نمائش کرنا سخت ناجائز حرام ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں عورتوں کو غیر محرموں کے سامنے اپنی زینت کے اظہار سے منع فرمایا 


کما قال الله تعالٰی 


وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(31)


اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جتنا (بدن کاحصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو ان کی ملکیت ہوں یامردوں میں سے وہ نوکر جو شہوت والے نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر اپنے پاؤں اس لئے زور سے نہ ماریں کہ ان کی اس زینت کا پتہ چل جائے جو انہوں نے چھپائی ہوئی ہے اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ

(سورہ نور آیہ ۳۱) 


اور اور بغیر ضرورت شدیدہ وطنیہ کے تصویر کشی کرنا بھی سخت ناجائز و حرام و شنیع بد کام بد انجام ؛ ایسا کرنے والوں کے لیے احادیث میں سخت عذاب کے پیغام 


کما قال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم 


اشد الناس عذابا عند الله المصورون


خدائے تعالی کے یہاں سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں پر ہوگا جو جاندار کی تصویر بناتے ہیں 


مشکوۃ شریف ص ۳۸۵ مطبوعہ مجلس البرکات 


و قال فی مقام آخر 


لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ کلب ولا تصاویر 


جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے 


مشکوۃ شریف ص ۳۸۵ مطبوعہ مجلس البرکات 


اور فتاوی فقیہ ملت میں بحوالہ فتاوی امجدیہ جلد چہارم صفحہ نمبر ۱۷۴ کے ہے


 تصویر کھینچنا یا کھینچوانا یا اسے بروجہ تعظیم رکھنا ناجائز حرام ہے اور جس گھر میں تصویر ہوتی ہے اس میں ملائکہ رحمت نہیں آتے اس کا مکان میں بطور تعظیم و اعزاز رکھنا جائز نہیں 


( جلد دوم صفحہ نمبر ۲۸۷ مطبوعہ فقیہ ملت اکیڈمی) 


لہذا زید اور اس کے اہل خانہ وعشیرہ امور مذکورہ فی السوال کی بنیاد پر ناجائز حرام کے مرتکب ہوکر فاسق ہوئے ان کو چاہئے کہ وہ توبہ کریں نیز عمر؛ بکر ؛ خالد کے ان ناجائز امور پر تنبیہ کرنے سے ان کو مجلس سے نکال دینا ان پر ظلم ہے اور ظالموں کی پکڑ بہت سخت ہوگی البتہ چاہیے کہ زید اور اس کے عشیرہ عمر ؛ بکر؛ خالد سے معافی مانگیں اور توبہ بھی کریں



واللہ اعلم 


ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney