کیا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی شادی نہیں ہوئی تھی؟


سوال نمبر 2135

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس سوال کے جواب میں کہ حضرت بلال رضی الله عنہ کی شادی کیوں نہیں ہوئ تھی؟

المستفتی: محمد کوثر رضا گڑھوا جھارکھنڈ




وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

باسمه سبحانه وتقدس الجواب

یہ محض ہے اصل بات ہے بلکہ کثیر روایات سے ظاہر ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی تھی البتہ اللہ تعالی کی مصلحت تھی کہ آپ صاحب اولاد نہیں تھے 

حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،!

"چوں بلال از ضعف شد ہمچوں ہلال، 

رنگ مرگ افتاد بر روۓ بلال، 


جب حضرت بلال کمزوری سے چاند کی طرح ہو گۓ، 

حضرت بلال کے چہرے پر موت کے آثار آگئے،


جفت او دیدش بگفتا واحرب،

 پس بلالش گفت نے نے واطرب،


ان کی بیوی نے ان کو دیکھا کہا ہائے لٹ گئے، 

تو حضرت بلال نے ان سے کہا نہیں نہیں خوشی ہے،


 تاکنوں اندر حرب بودم ززیست ، 

تو چہ دانی مرگ چہ عیش و چیست، 


اب تک میں زندگی سے مصیبت میں تھا، 

تو کیا جانے موت کس قدر عیش ہے اور کیا چیز ہے،


گفت جفتش الفراق اے خوش خصال، 

گفت نے نے الوصال ست ایں وصال،


ان کی بیوی نے کہا کی اے خوش خصلت جدائی ہے، 

انہوں نے فرمایا نہیں نہیں یہ جدائی وصال ہے،


(مثنوی معنوی مولاناۓ روم صفحہ ۳۳۷ ،۳۳۴ مکتبہ سب رنگ کتاب گھر دھلی )


اور حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں !


کہ حضرت بلال ابن رباح آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں مکہ معظمہ میں آپ نے اپنا اسلام ظاہر کیا بدر وغیرہ تمام غزوات میں شامل ہوۓ آخر میں شام رہے آپ کی اولاد کوئی نہیں 


(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ۸ صفحہ ۴۹۱ مکتبہ ادبی دنیا دہلی )


واللہ تعالی اعلم بالصواب

 کتبــــــــــــــــہ 

محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الہند









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney