دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں لانا کیسا ہے؟


سوال نمبر 2134

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کی دو شادیاں ہوٸیں، پہلی بیوی سے جو لڑکی ہوئی اس کی شادی کردی، دوسری بیوی سے بھی ایک لڑکی پیدا ہوئی، اب وہ شخص اس لڑکی کو بھی اسی لڑکے سے شادی کرنا چاہتا ہے، واضح رہے کہ پہلی بیوی سے لڑکی اب تک اس لڑکے کے نکاح میں ہے، تو کیا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں کیونکہ دونوں کا باپ ایک ہی ہے جبکہ ماں الگ الگ، تو کیا یہ نکاح پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟

(سائل:محمد صدام حسین، انڈیا)



وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:

 پوچھی گئی صورت میں ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے اگرچہ دونوں علاتی یعنی باپ شریک ہوں، لہٰذا یہ نکاح پڑھانا ناجائز وگناہ ہے۔ چنانچہ دو علاتی بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کا حکم بیان کرتے ہوئے مفتی جلال الدین امجدی حنفی متوفی١٤٢٠ھ لکھتے ہیں:بکر ان دونوں لڑکیوں کو اپنے نکاح میں ہرگز نہیں لاسکتا ہے اِس لئے کہ وہ جمع بین الاختین ہے جس کا حرام ہونا قرآنِ مجید، حدیث شریف اور فقہ سے ثابت ہے۔ پارہ چہارم کی آخری آیتِ محرمات میں ہے:وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ۔ یعنی، دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے:من کان یٶمن باللہ والیوم الآخر فلا یجمعن ماءہ فی رحم اختین۔ یعنی جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ اپنے نطفہ کو ہرگز دو بہنوں کے رحم میں جمع نہ کرے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دو بہنوں سے عقد نہ کرے اور فتاوی عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر ص٢٥٩ میں ہے:لا یجمع بین الاختین بنکاح۔ یعنی، دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع نہ کرے ھکذا فی السراج الوھاج خواہ دونوں بہنیں عینی ہوں یا علاتی یا اخیافی، لہٰذا بکر ایسی شادی ہرگز ہرگز نہ کرے ورنہ سخت حرام کار نہایت بدکار، لائقِ عذابِ قہار اور دین ودنیا میں رو سیاہ وشرمسار ہوگا۔

(فتاویٰ فیض الرسول،جلد اول،صفحہ٥٩٨۔٥٩٩)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:

محمد اُسامہ قادری

پاکستان، کراچی

ہفتہ، ١٨/ذو القعدة،١٤٤٣ھ۔١٨/جون،٢٠٢٢









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney