بھاگ کر شادی کی گھر پہنچ کر کیا دوبارہ نکاح کرنا ہوگا؟


سوال نمبر 2142

 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

 علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے لڑکا اور لڑکی بھاگ کر شادی کئے گھر والوں کو پتہ چلا تو بہت شرمندہ ہوئے اب لڑکا اور لڑکی کے والدین سماج میں عزت کی خاطر دوبارہ سے ان دونوں کی شادی کرنا چاہتے ہیں تو کیا دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی؟

 سائل : هدایت اللہ کلکتہ 



وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب 

صورت مستفسرہ میں لڑکا اور لڑکی کا نکاح کرنا شرعی اعتبار سے اگر جائز تھا تو پہلی مرتبہ میں ہی نکاح ہو گیا اب مزید دوبارہ نکاح پڑھوانے کی حاجت نہیں لیکن پھر بھی دوبارہ ایجاب و قبول کروانا چاہیں تو حرج بھی نہیں کہ یہ تجدید نکاح ہے نہ کہ نکاح از سرے سے نو !


حضرت علامہ مفتی منظور احمد یار علوی ارشدی دامت برکاتھم القدسیہ فرماتے ہیں 


"موانع نکاح سے اگر کوئی اور امر مانع نہ تھا تو نکاح منعقد ہو گیا پھر سے نکاح کی ضرورت نہیں ہاں دوبارہ نکاح کرتا ہے تو یہ تجدید نکاح ہے نہ کہ سرے سے نکاح "


( فتاوی یار علویہ صفحہ ۱۳۲ مطبوعہ دارالعلوم اہل سنت برکاتیہ گلشن نگر جوگیشوری )



تنبیـــــہ: زوجین کو ان کے اس فعل بد سے لازمی طور پر توبہ کروائی جائے جو انہوں نے بھاگ کر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارا، 

قال اللہ تعالٰی فی القرآن المجید، 

" اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ"

مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا !


واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبــــــــــــــــہ 

محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الہند









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney