نابالغہ خود اپنا نکاح کسی لڑکے سے کرے تو نکاح کا کیا حکم؟


سوال نمبر 2141

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ زید اور ہندہ اپنے گھر والے کو بتائے بغیر چپکے سے نکاح کر لیا جو کہ ہندہ نابالغہ ہے تو کیا اِن دونوں کا نکاح جائز ہے؟ 

المستفتی۔ شاہد جھاڑکھنڈ



وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوھاب 

 سمجھدار نابالغہ کا بغیر اذنِ ولی نکاح کرنا اور اس نکاح کا درست و صحیح ہونا محض صحت تک محدود ہوگا ، مگر نفاذِ نکاح اجازتِ ولی پر موقوف رہے گا! اولیاء رضامندی ظاہر کر دیں تو ایسا نکاح نافذ بھی ہو جائے گا ، اور رد کر دیں تو نکاحِ مذکور ختم یعنی کالعدم ہو جائے گا! حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں اگر نابالغ بچہ نا سمجھ ہے تو نکاح منعقد نہ ہوا اور اگر سمجھ والا ہے تو نکاح منعقد ہو جائے گا مگر ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا فتاوی عالمگیری میں ہے 

" لا ینعقد نکاح الصبی الذی لا یعقل و نکاح الصبی العاقل یتوقف نفاذہ علی اجازة ولیه "

 ھکذا فی البدائع ملخصا (جلد اول صفحہ ٢٠٥)

(فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ٥٥٩)

صورت مسئولہ میں اگر بچی نا سمجھ ہے تو نکاح منعقد نہ ہوا اور اگر بچی سمجھ دار ہے تو نکاح منعقد ہو جائے گا مگر ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا 


واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبہ 

محمد مدثر جاوید رضوی 

مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج 

ضلع۔ کشن گنج، بہار









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney