جنازہ لیکر چلنے میں بھی کیا قبلے کا احترام ہے؟


سوال نمبر 2145

 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ جنازہ جس وقت لے کر جاتے ہیں اس وقت میت کے پیر قبلہ کی طرف ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمارے گاؤں کے قبرستان مشرق میں ہیں اور بستی سمت مغرب ہے اس وجہ سے میت کے پیر قبلہ کی طرف ہوجاتے ہیں تو کیا اس میں قبلہ کی بے ادبی نہیں جب کہ قبلہ کا احترام ضروری ہے ؟

سائل: محمد افروز رضا 




وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

باسمه سبحانه تعالی وتقدس الجواب

 جنازے کے سرہانے کو آگے لے کر چلنے میں قبلہ کی بے ادبی نہیں ہے بلکہ پہلے سے مسلمانوں میں یہ طریقہ رائج رہا ہے کہ جس وقت جنازہ لے کر چلتے ہیں اس وقت جنازے کا سرہانا آگے رہتا ہے اور یہی حکم شرع ہے اور اس کے برعکس خلاف شرع ہے !


حضرت علامہ مفتی محمد خلیل احمد خاں قادری برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں !

" حکم شرعی یہ ہے کہ جنازہ لے چلنے میں سرہانا آگے ہونا چاہیے تمام دنیا میں مسلمانوں کا اس پر عمل ہے اس کے برخلاف پاؤں آگے رکھنا حکم شرعی کی خلاف ورزی ہے ہم ایسی رسم کیوں رواں رکھیں جس سے طریق مسلمین کا خلاف لازم آئے قبلہ کو ہم بدل نہیں سکتے تو اس کے لئے حکم شرعی کیوں بدلیں شرع ہر حال میں حاکم ہے اس کی سنیں "


(احسن الفتاوی المعروف فتاوی خلیلیہ جلد اوّل صفحہ ۴۳۹ مکتبہ امجدیہ مٹیامحل دھلی )



واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبــــــــــــــــہ 

محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الہند









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney