نماز میں نیند کے غلبہ کے وجہ سے کچھ کا کچھ پڑھ دیا تو کیا حکم ہے؟


سوال نمبر 2146

 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته... 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ 

نماز میں قیام کےدوران نیند کے غلبے کی وجہ سے التحیات پڑھ لیا، اور التحیات کی جگہ سورہ فاتحہ، اسی طرح رکوع و سجود میں بھی کچھ اور پڑھا ۔۔ ایسی صورت میں کیا حکم لگے گا؟ جواب عنایت فرمائیں 

(سائل محمد شہزاد رضا پاکستان) 



وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

 نمازِ فرض میں بحالتِ قیام اگر پہلی دونوں رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں بھی الحمد سے پہلے تشہد پڑھی تو سجدۂ سہو واجب نہیں اگر الحمد کے بعد سورت سے پہلے پڑھی تو واجب ہے, اگر آخر کے دونوں یا کسی ایک رکعت میں پڑھی تو بھی سجدۂ سہو واجب نہیں ! 

یوں ہی تشہد کی جگہ الحمد پڑھی سجدۂ سہو واجب ہے 

جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : 

ولو قرأ التشهد في القيام إن كان في الركعة الأولى لا يلزمه شيء، وإن كان في الركعة الثانية اختلف المشايخ فيه، والصحيح أنه لا يجب، كذا في الظهيرية.

ولو تشهد في قيامه قبل قراءة الفاتحة فلا سهو عليه، وبعدها يلزمه سجود السهو، وهو الأصح؛ لأن بعد الفاتحة محل قراۃ السورة، فإذا تشهد فيه فقد أخر الواجب، وقبلها محل الثناء، كذا في التبيين۔ ولو تشهد في الأخريين لا يلزمه السهو، كذا في محيط السرخسي "اھ

(فتاویٰ ہندیہ جلد اول صفحہ ۱۲۷ کتاب الصلاۃ) 

 اور، بہار شریعت میں ہے 

پہلی دو رکعتوں کے قیام میں الحمد کے بعد تشہد پڑھا سجدۂ سہو واجب ہے اور الحمد سے پہلے پڑھا تو نہیں- 

پچھلی رکعتوں کے قیام میں تشہد پڑھا تو سجدہ واجب نہ ہوا اور اگر قعدۂ اولیٰ میں چند بار تشہد پڑھا سجدہ واجب ہوگیا، تشہد پڑھنا بھول گیا اورسلام پھیر دیا پھر یاد آیا تو لوٹ آئے تشہد پڑھے اور سجدۂ سہو کرے۔ یوہیں اگر تشہد کی جگہ الحمد پڑھی سجدہ واجب ہوگیا۔ 

(حصہ چہارم صفحہ ۷۱٦ سجدۂ سہو کا بیان) 

اور، رکوع سجود میں تسبیح کی جگہ قرآنی آیات پڑھی تو سجدۂ سہو واجب ہے کیونکہ قیام کے سوا کسی بھی رکن میں آیات قرآنی پڑھنا ممنوع ہے 

جیسا کہ فتاویٰ رضویہ میں ہے! 

قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ شریف پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیت قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوا اور جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے - 

(جلد سوم صفحہ ۱۳٤ رضا اکیڈمی ممبئی)

نوٹ ؛ جو حکم فرض کی پہلی دو رکعتوں کا ہے وہ حکم واجب سنت اور نفل کے ہر رکعت کا ہے کیونکہ واجب سنت اور نفل کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ ملانا واجب ہے ، 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ

فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ 

۱۳ ذی القعدہ ۱۴۴۳ ھجری









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney