آنکھ میں زخم ہو تو وضو کا کیا حکم ہے؟


سوال نمبر 2147

 السلام وعلیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

 علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ آنکھ میں زخم تھا حالت وضو میں آنکھ میں خون نکل کر آنکھ کے اندر بہا باہر نہیں نکلا تو وضو کا کیا حکم ہے ؟

سائل : شیخ امیر رضا قادری اورنگ آباد مہاراشٹرا




وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

باسمه سبحانه تعالى وتقدس الجواب

 آنکھ میں اگر زخم ہوا اور خون یا پیپ اندر ہی رہا تو وضو باقی ہے وضو نہیں ٹوٹا اور اگر اپنے مقام سے بہ کر اس طرف گیا جس حصہ کا وضو یا غسل میں پاک کرنا فرض ہے تو وضو جاتا رہا اور آنکھ کا اندرونی حصہ وضو یا غسل میں پاک کرنا فرض نہیں !


حضرت امام احمد ابو الحسین قدوری علیہ الرحمہ نواقضِ وضو میں فرماتے ہیں 


"والدم والقیح والصدید أذا خرج من البدن فتجاوز ألی موضع یلحقه حکم التطھیر "


اور خون پیپ اور کچ لہو جب بہ جائے ایسے مقام کی طرف جس کو پاک کرنے کا حکم لاگو ہو۔

( انوار القدوری شرح مختصر القدوری جلد اول صفحہ ۴۷ مکتبہ اختریہ جامعہ اسلامیہ سہارنپور یوپی )

حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں !

 

کہ " آنکھ میں دانہ تھا اور ٹوٹ کر آنکھ کے اندر ہی پھیل گیا باہر نہیں نکلا یا کان کے اندر دانہ ٹوٹا اور اس کا پانی سوراخ سے باہر نہ نکلا تو ان صورتوں میں وُضو باقی ہے "


(بہار شریعت جلد اول صفحہ ۳۰۵ مکتبۃ المدینہ)



واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبــــــــــــــــہ 

محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الہند









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney