دیہات میں عید الضحیٰ کے دن نماز فجر کے بعد قربانی کرنا کیسا ہے ؟

سوال نمبر 2155

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں

دیہات میں عید الضحیٰ کے دن نماز فجر کے بعد قربانی کرسکتے ہیں؟

المستفتی۔ سید اسماعیل رضا 



وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 الجواب بعون الملک الوھاب 

دیہات میں عید الضحیٰ کے دن طلوع فجر کے بعد سے قربانی ہو سکتی ہے اس سے پہلے نہیں اور بہتر یہ ہے کہ دیہات میں طلوع آفتاب کے بعد قربانی کی جائے !

حضور صدرالشریعہ تحریر فرماتے ہیں کہ

 شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہو چکے لہذا نماز عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہوسکتی اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے یہاں طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں بہتر یہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہو چکنے کے بعد قربانی کی جاۓ ۔

 (بہار شریعت جلد سوم حصہ پانزدہم(١٥) صفحہ ٣٣٧، قربانی کا بیان)

اور درمختار مع شامی ج ۲ ص ۳۱۸ ، کتاب الاضحية پرہے : " واول وقتها بعد الصلاة ان ذبح في مصر و بعد طلوع فجر ان ذبح في غيره ١ھ اور ردالمحتار میں ہے : اول وقتها في حق المصرى والقروى طلوع الفجر الاانه شرط للمصرى تقديم الصلاة عليها فعدم الجواز لفقد الشرط لالعدم الوقت ١ھ۔



 واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبہ محمد مدثر جاوید رضوی 

مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج 

ضلع۔ کشن گنج، بہار









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney