استخارہ کرنے کا طریقہ؟


سوال نمبر 2154

 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ شادی کرنے کے لیے جو استخارہ ہے اسے کیسے کیا جاتا ہے؟

المستفتی عبد السلام حیدرآباد



وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب:

دریافت کی گٸی صورت میں فقیر کی نگاہ سے رشتہ ازدواجی کے لۓ مخصوص کوٸی ایسا استخارہ نہیں گزرا البتہ مندرجہ ذیل استخارہ انجام بہتری کےلۓ کیا جاسکتا ہے بلکہ میرے آقاﷺ نے ایسا کرنے کی ترغیب بھی ہیں:

سنن ابن ماجہ میں ہے:عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا الاِسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ ‏”‏ إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي ـ قال ویسمی حاجتہ"(ص١٩٦،مطبوعہ دارالسلام،ریاض)

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ ہم کو سب کاموں میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورۃ سکھلاتے۔آپﷺ فرماتے تھے جب کوئی تم میں سےکسی کام کا ارادہ کرے تو نفل دو رکعت پڑھے۔ پھر یوں کہے: اللھم انی استخیرک آخر تک یعنی اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت بھلائی چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت طاقت چاہتا ہوں۔ اور تیرا بڑا فضل مانگتا ہوں تجھ کو قدرت ہے اور مجھ کو قدرت نہیں تجھ کو علم ہے اور مجھ کو علم نہیں اور تو غیب کا جاننے والا ہے۔اے میرے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کیلئے استخارہ کیا جا رہا ہے) ،میرے دین اور دنیا اور انجام کار کیلئے بہتر ہے یا یوں فرمایا: میرے لیے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ بہتر ہے تو وہ مجھ کو نصیب کردے اور اس کا حصول آسان کردے اور اس میں برکت دےاور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین اور دنیا اور انجام کار کیلئے برا ہے یا یوں فرمایا: میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ برا ہے، تو اسے مجھ سے ہٹادے،اور مجھے بھی اسے ہٹادے۔پھر میرے لیے خیر مقدر فرمادے۔جہاں بھی وہ ہو،اور اسے میرے دل کو مطمئن بھی کردے۔آپ ﷺنے فرمایا: اس کام کی جگہ اس کام کا نام لے۔


مختصر یہ ہے کہ استخارہ کے لۓ پہلے دو رکعت نفل نماز پڑھی جائے ، اس کے بعد پوری توجہ کے ساتھ مذکورہ بالا دعا پڑھے یعنی اللّٰہُمَّ إِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ ۔۔۔ اور "ھذاالامر "کے بعد اپنی حاجت کا ذکر کرے پھر آگے پڑھے خَيْرٌ لِیْ، فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ ۔۔۔۔۔۔ هٰذَا الْأَمْرَ. . . پھر (یہاں اپنی حاجت کا ذکر کرے) . . . شَرٌّ لِّيْ، فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ ۔۔ الخ تک پڑھے بعدِ استخارہ اصل چیز دل کا رجحان ہے جس طرف دل ماٸل ہو اسی میں خیر سمجھے خواب کا نظر آنا ضروری نہیں۔ .واللہ اعلم بالصواب

کتبہ

صبغت اللہ فیضی نظامی۔

٦/ذوالحجہ ١٤٤٣۔









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney