اندھے شیشوں میں چمکا..... سے کیا مراد ہے؟


سوال نمبر 2158

 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

سب چمک والے اجلوں میں چمکا کیے

اندھے شیشوں میں چمکا ہمارا نبی 

یہاں اندھے شیشوں سے مراد کیا ہے؟ 

الساٸل ۔۔۔ عبدالروف نظامی بستوی



وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون اللہ و رسولہ 

مذکورہ شعر میں سیدی سرکار الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اندھوں شیشوں ،، سے مراد کفر و شرک و ضلالت و گمراہی و ظلم و ستم لیا ہے!

یعنی حضورﷺ جب اس دنیا میں تشریف لائے تو یہ دنیا کفر و شرک ظلم و بربریت کا مرکز تھی! پھر نبی کریم ﷺ ان اندھوں شیشوں میں ایسے چمکے کہ آپ کی چمک سے دنیاۓکفر کی تاریکیاں چھٹ گٸیں!


جیساکہ مذکورہ شعر کی شرح میں شارح تحریر کرتےہیں ۔۔۔


انبیاءکرام علیھم السلام پڑھےلکھےمہذب نیک لوگوں میں تشریف لاۓ!

لیکن ہمارے نبیﷺ جن لوگوں میں مبعوث ہوۓ وہ کفر و شرک جہالت و ضلالت کی دلدل میں میں پھنسےہوۓانتہاٸی غیر مہذب اور نافرمانی و عصیان کےپتلےتھےاپنےگناہوں پر نازکرنے والے ، بچیوں کو زندہ درگور کرنےوالے بتوں کی پوجاکرنےوالےضدی ہٹ دھرم حیاباختہ لوگ تھے ایسے ظلم شعار لوگوں *اندھےشیشوں* میں ہمارے نبی ایسے چمکے کہ ان کو بھی چمکا کے رکھ دیا جو شرابی تھے صحابی بن گئے جو راہزن تھےراہبربن گۓ بد کردار تھے نیکو کار بن گئے خطاکار تھے پرہیزگار بن گئے۔۔

اور ،، الفضل ماشھدت بالاعداء ،، فضیلت وہ جس کی دشمن بھی گواہی دےاور جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے


شرح حداٸق بخشش ، ص ٤٣١

{الکریم مارکیٹ اردو بازار لاہور}


واللہ و رسولہ اعلم

!عبیداللّٰه حنفی بریلوی مقام دھونرہ ٹانڈہ ضلع بریلی شریف









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney