پوسٹ مارٹم کی ہوئی لاش کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟


سوال نمبر 2188

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ کسی بھی حادثہ کے بعد اگرچہ موت ہوجائے تو پوسٹ ماٹم کرنے کے بعد جنازہ پڑھنے یا پڑھانے میں کوئی حرج تو نہیں ہے ،بکر کا کہنا ہے کے پوسٹ ماٹم کرنے کے بعد جنازہ پڑھنا درست نہیں ہے اس مسٔلہ پر علماۓ کرام ومفتیان عظام ایک نظر فرمائیں عین نوازش ہوگی؟

سائل : کلام الدین سمستی پور بہار



وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب :

پوسٹ مارٹم شدہ میت کی نماز جنازہ پڑھنے میں کوٸی حرج نہیں پڑھی جاۓ گی مردہ نعش کا پوسٹ مارٹم مانع نماز جنازہ نہیں بلکہ ہرمسلمان عاقل وبالغ پر نماز جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے۔

چنانچہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ایسے ہی ایک سوال کےتحت جوابا ارشاد فرمایا گیا کہ"(پوسٹ مارٹم والے) شخص مذکور کو غسل و کفن دینا پھر اس کی نماز جنازہ پڑھنا ہر مسلمان عاقل و بالغ پر فرض کفایہ ہے اگرچہ نعش سڑ گئی ہو اور اس میں بدبو پیدا ہوگئی ہو۔ اگر کسی نے بھی اس کو غسل و کفن نہ دیا یا نماز جنازہ نہ پڑھی تو سب گنہگار ہوں گے ( جلد اول ص ٣٤٨ مکتبہ امجدیہ دھلی)


( تنبیہ) پوسٹ مارٹم سے جہاں تک ممکن ہو قانون کی رُو سے بچنے کی گنجائش ہو تو بچے اور جہاں مجبور ہو ، تو معذور ہے لیکن بکر کا یہ کہنا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد نماز جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے یہ محض شریعت پر افترا ہے بکر پر توبہ لازم ہے اور آئندہ غلط مسئلہ بتانے سے بچے _حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ "من افتیٰ بغیر علم لعنته ملائکة السماء والارض"

" یعنی جو شخص بغیر علم کے فتویٰ دے، اس پر زمین وآسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں

{فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد اول ص ٢٠٩ }

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

کتبہ: محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الھند 

١٩ محرم الحرام ١٤٤٤ ھ









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney