حرام جانوروں کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر 2189

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسٔلہ کے بارے میں کہ حرام جانور جیسے کتا شیر سانب وغیرہ کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے ؟

سائل : ازھر نورانی کلکتہ الھند


وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

باسمه سبحانه تعالیٰ وتقدس الجواب 


صورت مذکورہ میں حرام جانوروں کی تین قسمیں پائی جاتی ہیں درج ذیل ان کے ترتیب وار حکم شرعی ملاحظہ ہوں!


(اولا) دریائی جانوروں میں علاوہ مچھلی کے جو دریائے جانور ہیں جیسے مینڈک کیکڑا وغیرہ ان کی بیع جائز نہیں ہاں ان کی ہڈی اور کھال سے نفع اٹھانا جائز ہے!


حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین علیہ الرحمۃ والرضوان متوفی ۱۱۶۱ ھ، فرماتے ہیں !

وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ مَا يَكُونُ فِي الْبَحْرِ كَالضُّفْدَعِ وَالسَّرَطَانِ وَغَيْرِهِ إلَّا السَّمَكَ وَلَا يَجُوزُ الِانْتِفَاعُ بِجِلْدِهِ أَوْ عَظْمِهِ كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔


یعنی اور جو چیزیں دریا میں ہوتی ہیں ان میں سوائے مچھلی کے مینڈک اور کیکڑا وغیرہ کا بیچنا جائز نہیں ہے اور بھی ان کی ہڈی اور کھال سے نفع اٹھانا جائز ہے یہ محیط میں لکھا ہے ۔

(فتاوی ھندیه ج ٣ ص ١١٤ مطبوعہ مصر )


حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی متوفی ١٣٧٦ھ فرماتے ہیں!

" مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک، کیکڑا وغیرہ کی بیع نا جائز ہے۔

(بہار شریعت جلد دوم صفحہ ٨٠٩,٨١٠ مطبوعہ دعوت اسلامی)


(ثانیاً) حشرات العرض یعنی زمین پر رینگنے والے جانور جیسے سانپ گوہ بچھو چوہا چھپکلی وغیرہ ان کی بیع ناجائز ہے ہاں اگر سانپ وغیرہ دوا کے کام آئے تو ان کی بیع جائز ہے اور اگر کسی کام نہ آئیں تو ان کی بیع جائز نہیں ہے!


حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین علیہ الرحمۃ والرضوان متوفی ۱۱۶۱ ھ، فرماتے ہیں !

 وَلَا يَجُوزُ بَيْعُ هَوَامِّ الْأَرْضِ كَالْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَالْوَزَغِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ

"ایضاً"

 وَفِي النَّوَازِلِ وَيَجُوزُ بَيْعُ الْحَيَّاتِ إذَا كَانَ يُنْتَفَعُ بِهَا فِي الْأَوْدِيَةِ وَإِنْ كَانَ لَا يُنْتَفَعُ بِهَا لَا يَجُوزُ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ يَجُوزُ بَيْعُ كُلِّ شَيْءٍ يُنْتَفَعُ بِهِ كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة.


یعنی اور سانپ اور بچھو اور گرگٹ اور جو ان کے مانند زمین کے جانور ہیں ان کا بچنا جائز نہیں ہے

"ایضاً "

 نوازل میں لکھا ہے کہ سانپ اگر دوا کے کام میں آئیں تو ان کی بیع جائز ہے اور اگر کسی کام نہ آئیں تو بیع جائز نہیں ہے اور صحیح یہ ہے کہ کل چیزوں کی بیع جن سے کچھ نفع حاصل ہو جائز ہے ۔ یہ تاتارخانیہ میں لکھا ہے ۔

(فتاوی ھندیه ج ٣ ص ١١٤ مطبوعہ مصر )


اور حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی متوفی ١٣٧٦ھ فرماتے ہیں!

" اور حشرات الارض چوہا، چھچھوندر،گھونس،چھپکلی، گرگٹ، گوہ، بچھو، چیونٹی کی بیع نا جائز ہے۔

(بہار شریعت جلد دوم صفحہ ٨٠٩,٨١٠ مطبوعہ دعوت اسلامی)


(ثالثاً) درندہ جانور یعنی پھاڑ کھانے والے جانور جو دانتوں اور پنجوں سے شکار کرکے پھاڑ کھاتے ہوں جیسے کتا چیتا شیر باز شِکرا بلی ان سب کی بیع جائز ہے شکار کرنا سیکھے ہوئے ہوں یا نہ ہوں بشرطیکہ کے سیکھنے کے قابل ہوں !


تاج الفقہاء حضرت علامہ مفتی محمد اختر حسین قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں!

" کتے کئ طرح کے ہوتے ہیں بعض کتے معلم یعنی سکھائے ہوئے اور بعض غیر معلم ہوتے ہیں پھر جو غیر معلم ہوتے ہیں ان میں بعض قابل تعلیم ہوتے ہیں بعض نہیں ہوتے بلکہ کاٹ کھانے والے ہوتے ہیں تو جو کتے معلم یا غیر معلم مگر قابل تعلیم ہوں ان کی خرید و فروخت جائز ہے اور جو کٹکھنے ہوں ان کی بیع درست نہیں !

(فتاویٰ علیمیہ جلد سوم صفحہ ١١١ مکتبہ امجدیہ دھلی)


حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین علیہ الرحمۃ والرضوان متوفی ۱۱۶۱ ھ، فرماتے ہیں !

 بَيْعُ الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ عِنْدَنَا جَائِزٌ وَكَذَلِكَ بَيْعُ السِّنَّوْرِ وَسِبَاعِ الْوَحْشِ وَالطَّيْرِ جَائِزٌ عِنْدَنَا مُعَلَّمًا كَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ.

 وَبَيْعُ الْكَلْبِ غَيْرِ الْمُعَلَّمِ يَجُوزُ إذَا كَانَ قَابِلًا لِلتَّعْلِيمِ وَإِلَّا فَلَا، وَهُوَ الصَّحِيحُ كَذَا فِي جَوَاهِرِ الْأَخْلَاطِيِّ قَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَهَكَذَا نَقُولُ فِي الْأَسَدِ إذَا كَانَ بِحَيْثُ يَقْبَلُ التَّعْلِيمَ وَيُصَادُ بِهِ أَنْ يَجُوزَ الْبَيْعُ فَإِنَّ الْفَهْدَ وَالْبَازِيَ يَقْبَلَانِ التَّعْلِيمَ عَلَى كُلِّ حَالٍ فَيَجُوزُ بَيْعُهُمَا عَلَى كُلِّ حَالٍ كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ وَفِي الْفَتَاوَى الْعَتَّابِيَّةِ.

 وَيَجُوزُ بَيْعُ الذِّئْبِ الصَّغِيرِ الَّذِي لَا يَقْبَلُ التَّعْلِيمَ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى صَغِيرُهُ وَكَبِيرُهُ سَوَاءٌ كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة.

 وَبَيْعُ الْفِيلِ جَائِزٌ.

 وَفِي بَيْعِ الْقِرَدَةِ رِوَايَتَانِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي رِوَايَةٍ يَجُوزُ وَهِيَ الْمُخْتَارُ كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ.

 وَيَجُوزُ بَيْعُ جَمِيعِ الْحَيَوَانَاتِ سِوَى الْخِنْزِيرِ وَهُوَ الْمُخْتَارُ كَذَا فِي جَوَاهِرِ الْأَخْلَاطِيِّ ۔


یعنی سیکھے ہوئے کتے کی بیع ہمارے نزدیک جائز ہے اور ایسے ہی بلی اور وحشی درندہ جانوروں اور پرندوں شکاری کی بیع ہمارے نزدیک جائز ہے خواہ وہ سیکھے ہوۓ ہوں یا نہ ہوں فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے اور جو کتا کہ سیکھا ہوا نہ ہو اس کی بیع جائز ہے بشرطیکہ وہ سکھلانے کے قابل ہو ورنہ جائز نہیں ہے۔ یہی صحیح ہے یہ جواہر اخلاطی میں لکھا ہے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ شیر کی بیع میں بھی ہمارا یہی قول ہے کہ اگر وہ تعلیم قبول کرے اور اس سے شکار کیا جاسکے تو اس کی بیع جائز ہے کیونکہ چیتے اور باز ہر حال میں سیکھ جاتے ہیں تو ان کی بیع بھی ہر حال میں جائز ہے یہ ذخیرہ میں لکھا ہے ۔ فتاوی عتابیہ میں ہے کہ چھوٹے بھیڑۓ کی بیع کہ جو تعلیم نہ قبول کرے جائز ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا کہ چھوٹا بھیڑیا اور بڑا دونوں برابر ہیں یہ تاتارخانیہ میں لکھا ہے ۔ ہاتھی کا بیچنا جائز ہے اور بندر کے بیچنے میں امام اعظم رحمہ اللہ سے دو روایتیں آئی ایک روایت میں ہے کہ جائز ہے اور یہی مختار ہے یہ محیط سرخسی میں لکھا ہے اور سوائے سور کے تمام حیوانات کی بیع جائز ہے اور یہی مختار ہے یہ جواہر اخلاطی میں لکھا ہے ۔

(فتاوی ھندیه ج ٣ ص ١١٤ مطبوعہ مصر )


حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ متوفی ١٣٧٦ھ فرماتے ہیں!

کُتا، بلی، ہاتھی، چیتا، باز، شکرا،بَہری،ان سب کی بیع جائز ہے۔ شکاری جانور معلّم (سکھائے ہوئے) ہوں یا غیر معلم دونوں کی بیع صحیح ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ قابل تعلیم ہوں کٹکھنا کُتاجو قابل تعلیم نہیں ہے اُس کی بیع درست نہیں !

(بہار شریعت جلد دوم صفحہ ٨٠٩,٨١٠ مطبوعہ دعوت اسلامی)


الشيخ امام فريد الدين عالم بن العلاء دهلوی هندی متوفي ،،٧٨٦۔ھ فرماتے ہیں!

 "وإذا بـاع كـلـبـا على أنه يصيد، أو باع بازيا على أنه يصيد قال أبو يوسف البيع جائز "


اور اگر اس نے کتے کو شکار کے طور پر بیچا یا باز کو شکار کے طور پر بیچا تو ابو یوسف نے کہا بیچنا جائز ہے ۔ 

(فتاوى تاتارخانيہ جلد ٨ كتاب البيوع ص ٤٢١ ۔مکتبہ زكريا دیوبند الھند)



واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

کتبہ

محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الھند 

١٨ محرم الحرام ١٤٤٤ھ









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney