(گروپ میں کچھ جہنمی شامل ہوگئے کہنا کیساہے؟)

سوال نمبر 2209

مسئلہ:کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت مندرجہ ذیل مسلہ میں کہ ایک گروپ ہے علمائے اہلسنت وسنی دانشوران قوم وملت کی

بنام *الجامعہ السبحانیہ  اطہر العلوم*

زید نے اس گروپ میں لکھا کہ اس گروپ میں کچھ جہنمی شامل ہو گئے ہیں

  ١/زید کا ایسا لکھنا ازروئے شرع کیسا ہے؟

 ٢/زید پر  یا زید کے اس جملے پر متفق ہونے والے ممبران پر اللہ ورسول(جل جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا کیافرمان ہے؟توضیح فرمائیں اور اجر عظیم کے مستحق ہوں

المستفتی نظام الدین نوری مصباحی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب ھو الھادی الی الصواب

اگر کوئی ایسا شخص شامل ہواہو جسے زید جانتاہے کہ عقائد کفریہ رکھتاہے یا بدعقیدوں کو انکے عقائد باطلہ پرمطلع ہوکر مسلمان سمجھتاہے تو زید کاکہنا بالکل درست ہے کیونکہ وہ شخص جہنم کا ہی مستحق ہے جو عقائد کفریہ رکھے یا عقائد کفریہ رکھنے والوں کو مسلمان جانے حدیث شریف میں ایسوں کو جہنمی کتا کہاگیاہے "عن ابی امامۃ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم أهل البدع كلاب أهل النار" حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل بدعت جہنمی کتے ہیں.(کنزالعمال حدیث نمبر:۱۱۲۵)


 اور اگرزید کی نظر میں ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو عقائد کفریہ رکھتاہو بس زید نے کسی ذاتی دشمنی کی وجہ سے ایسا کہاہے تو زید پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور گروپ میں معذرت نامہ پیش کرے یونہی تصدیق کرنے والے یا اس پر خوشی کا اظہار کرنے والوں پر بھی تو بہ لازم ہے.کیونکہ توبہ گناہوں کاکفارہ ہے یعنی گناہوں کو مٹادیتی ہے ارشادربانی ہے(اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓىٕكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْۚ-وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ)مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کردیں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گااور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان۔(کنز الایمان،سورہ بقرہ۱۶۰)

اور اگر زید گالی کے طور پر نہیں بلکہ کسی کو کافر یامرتدسمجھ کر جہنمی کہاہے جبکہ وہ کافر یا مرتد نہ ہوتو زید خود کافر ہوگیا.

مگر متفق ہونے والوں پر کفر کافتوی نہ ہوگا صرف توبہ لازم آئے گا.

نوٹ:جب تک زید خود نہ اقرار کرے کہ میں فلاں کو کافر سمجھ کر جہنمی کہاہوں اس پر کفر کا فتوی نہیں لگاسکتے البتہ توبہ کے لئے کہیں اور اگر توبہ نہ کرے تو ایسی صورت میں سماجی بائیکاٹ کردیں ارشاد ربانی ہے "وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ"اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(کنز الایمان سورہ انعام ۶۸)واللہ اعلم بالصواب

کتبہ 

فقیر تاج محمد قادری واحدی









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney