نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا کیساہے؟

 سوال نمبر 2208

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں مفتیان کرام کہ نماز میں قرآن پاک کو دیکھ کر پڑھنا یا ہاتھ میں رکھ کر پڑھنا کیسا ہے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں.

المستفتی ۔محمد افسر  ممبئ


وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون اللہ و رسولہ 

بحالت نماز قرآن دیکھ کر پڑھنا خواہ ہاتھ میں لیکر پڑھے یا سامنےرکھ کر پڑھے یامحراب  وغیرہ میں رقم کردہ  دیکھ کر پڑھےان تمام صورتوں میں نماز فاسد ہوجائےگی.

ایک صورت میں عمل کثیر ہے یعنی قرآن کوبحالت نماز اٹھانا رکھنا دیکھنا ورق کھولنا وغیرہ وغیرہ یہ سب عمل کثیر ہے اور عمل کثیر سےنماز فاسد ہوجاتی ہے!

دوسری صورت عملِ خارجِ صلوة داخل فی الصلوة ہونا لازم ہے یعنی ایسا عمل جو نماز کےباہر کا ہے وہ نماز میں داخل ہوجائے گا قرآن دیکھ کر پڑھنا گویا ایک طرح سے سیکھنا ہوا اور سکھانا خارج نماز ہے لہذا فعل خارج نماز کو داخل نماز کرنا ہے جس کی وجہ سےنماز فاسد ہوجاتی ہے!

علامہ شیخ برہان الدین مرغینانی متوفی ٥٩٣ھ تحریرفرماتےہیں وإذا قرأ الإمام في المصحف فسدت صلاته عند أبي حنيفة) ذكر الإمام اتفاقا وليس بقيد؛ لأن حكم المنفرد كذلك (الھدایة ، المجلدالاول ، کتاب الصلوة ، ص ١٣٨/مکتبہ رہمانیہ لاھور)


علامہ شیخ محمد علاء الدين الحصكفی ابن الشيخ علی الحنفی متوفّٰی ١٠٨٨ھ تحریر فرماتے ہیں ۔(وَقِرَاءَتُهُ مِنْ مُصْحَفٍ مطلقا)

مذکورہ عبارت کی تشریح میں علامہ سیدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی١٢٥٢ھ تحریر فرماتےہیں۔قَوْلُهُ أَيْ مَا فِيهِ قُرْآنٌ) عَمَّمَهُ لِيَشْمَلَ الْمِحْرَابَ، فَإِنَّهُ إذَا قَرَأَ مَا فِيهِ فَسَدَتْ فِي الصَّحِيحِ بَحْرٌ (قَوْلُهُ مُطْلَقًا) أَيْ قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا، إمَامًا أَوْ مُنْفَرِدًا، (الدرالمختار و ردالمحتار ، المجلدالثانی ، کتاب الصلوة ، ص ٣٨٣ تا ٣٨٤/بیروت لبنان)


علامہ شیخ نظام الدین حنفی متوفی ١١٦١ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے تحریر فرمایا ہے(وَيُفْسِدُهَا قِرَاءَتُهُ مِنْ مُصْحَفٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى ۔ إنَّ حَمْلَ الْمُصْحَفِ وَتَقْلِيبَ الْأَوْرَاقِ وَالنَّظَرَ فِيهِ عَمَلٌ كَثِيرٌ ۔ وَلِأَنَّ التَّلَقُّنَ مِنْ الْمُصْحَفِ تَعَلُّمٌ لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِ الصَّلَاةِ وَهَذَا يُوجِبُ التَّسْوِيَةَ بَيْنَ الْمَحْمُولِ وَغَيْرِهِ فَتَفْسُدُ بِكُلِّ حَالٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ.

 هَكَذَا فِي الْكَافِي. اور نماز فاسد ہوجائےگی اگر مصحف سےدیکھکر پڑھا امام اعظم کےنزدیک! آپ نےدلیل یہ دی ہےکہ قرآن کو اٹھانا اسکےورق پلٹنا اور اس پر نظر رکھنا یہ عمل کثیر ہے اور بغیر اٹھائے دیکھ کر پڑھنا سکھانا اور وہ اعمال صلوة میں سےنہیں ہے بہرحال قرآن کو اٹھاکر پڑھےیا بغیراٹھائے سامنے رکھ کر پڑھے دونوں صورتوں میں نماز فاسد ہوجائےگی اور یہی صحیح ہے .(الفتاویٰ الھندیة ، المجلدالاول ، کتاب الصلوة ، ص ١١٢/بیروت لبنان)


حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتےہیں ۔نماز میں مصحف شریف سے دیکھ کر قرآن پڑھنا مطلقا مفسد نماز ہے، يوہيں اگر محراب وغيرہ ميں لکھا ہو اسے ديکھ کر پڑھنا بھی مفسد ہے.(بہارشریعت ، حصہ٣ ، ص ٦٠٩/رضوی کتاب گھر دھلی) واللّٰه و رسولہ اعلم

کتبہ

عبید اللہ حنفی بریلوی

صفرالمظفر ٤٤٤١؁ھ بروز









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney