ابو الجن کون ہے؟

 سوال نمبر 2215

السلام و علیکم ورحمةاللہ وبركاته۔

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام و علمائے عظام مسئلہ ذیل کے تحت،

نسل انسانی حضرت آدم علیہ السلام سے وجود میں آئی اور انسانوں کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام ہیں اسلئے اپکو ابو البشر بھی کہا جاتاہے 

دریافت طلب یہ ہیکہ جنات کی ابتدا کب ہوئی اور انکا جد امجد کون ہے اور اسکا کیا نام ہے مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی


المستفتی:اسرار القادری سیتاپوری


وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

الجواب بعون الملک العزیز الوہاب 


تفسیر نعیمی میں ہے"اولا حق تعالیٰ نے فرشتوں کو آسمان میں اور جنات کو زمین میں بسایا تھا یہ واقعہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے  60 ہزار سال پہلے ہوا یہ جنات زمین میں سات ہزار سال تک آباد رہے پھر ان کا آپس میں بغض و حسد شروع ہوا چنانچہ انہوں نے آپس میں خوب جنگ و خونریزی کی اس وقت تک ابلیس  جس کا نام عزازئیل تھا بہت مقبول بارگاہ الہی تھا اور تمام ملائکہ میں بڑا عالم اور عابد ؛اس کو حکم ہوا کہ فرشتوں کی ایک جماعت لے جا اور جنات کو زمین سے نکال کر ان کو جزیروں اور پہاڑوں میں آباد کر دے  چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا (جلد اول صفحہ 248  مطبوعہ مکتبہ رضویہ)

جس طرح حضرت آدم علیہ السلام ابوالبشر  ہیں اسی "الجان" کو  ابو الجن کہا گیا ہے    مگر الجان کے ابو الجن ہونے  میں مختلف اقوال ہیں جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا"والجان خلقنہ من قبل من نار السموم"اور جِن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے۔(سورہ الحجر آیت 27 )

اسی آیت کے تحت تفسیر مظہری میں ہے 

اور جن کو ہم نے پیدا کیا اس سے پہلے آگ سے جو ایک  گرم ہوا سے بنی تھی الجان ( میں الف لام جنسی ہے )الانسان کی طرح جنس ہے  جب ایک شخص سے نکلے ہوئے مختلف افراد اسی جنس کے ہوں اور اس شخص کو کسی خاص مادہ سے بنایا گیا ہو تو تمام افراد کا قوام اسی  اصلی مادہ سے مانا جائے گا( پس ابوالجن کو جب آگ کے  مادہ سے بنایا گیا تو اس کی ساری نسل کو بھی اسی اصلی مادہ سے بنا ہوا کہا جائے گا اگرچہ اولاد کا سلسلہ تناسلی ہوگا براہ راست ان کو آگ سے نہیں بنایا گیا ہوگا) 

حضرت ابن عباس نے فرمایا "الجان" سے مراد ہے : تمام جنات کا باپ؛ جیسے حضرت آدم علیہ السلام  تمام انسانوں کے باپ  تھے قتادہ نے کہا اس سے مراد ابلیس ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ "الجان" جنات کا باپ ہے اور شیاطین کا باپ ابلیس ہے جنات میں کچھ مسلمان ہیں  کچھ کافر ؛مرتے بھی ہیں پیدا بھی ہوتے ہیں اور شیاطین  میں سے کوئی بھی مسلم نہیں نہ کسی کو موت آتی ہے جب ابلیس مرے گا تو اسی کے ساتھ سب  مریں گے (تفسیر مظہری سورہ حجر آیت 27)


اور یہی سورہ رحمان کی آیت نمبر 15 سے واضح ہے .واللہ تعالی اعلم 

کتبہ

ابوعبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلوی شریف









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney