مقتدی نے غلط لقمہ دیاتوکیاحکم ہے؟

 سوال نمبر 2280

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
الاستفاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام نے چار رکعت پڑھادی اور قعدہ اخیرہ میں بیٹھ گیا ہے اب مقتدی کو لگتا ہے کہ تین رکعت ہوئی ہے تو اس نے لقمہ دیا لیکن امام نے نہیں لیا تو اب مقتدی کیلئے کیا حکم ہے؟
(سائل:غلامِ مصطفٰی، انڈیا)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:صورتِ مذکورہ میں جب امام چوتھی رکعت پر صحیح بیٹھا تھا تو اس مقتدی کا لقمہ دینا بلا ضرورت ہوا اور یہ مفسدِ نماز ہے لہٰذا اس مقتدی کی نماز فاسد ہوگئی ہے۔چنانچہ بے حاجت لقمہ دینے کا حکم بیان کرتے ہوئے امام برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی٥٩٣ھ لکھتے ہیں:لو کان الامام انتقل الی آیة أخری: تفسد صلاة الفاتح، وتفسد صلاة الامام لو اخذ بقولہ، لوجود التلقین والتلقن من غیر ضرورة۔(الھدایة شرح بدایة المبتدی،٢١٤/١)
یعنی،اگر امام نے دوسرے مقام سے قراءت شروع کردی اور کسی نے لقمہ دیا تو لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر امام نے لقمہ لے لیا تو اس کی نماز بھی فاسد ہوجائے گی کیونکہ نماز میں بلا ضرورت سیکھنے اور سکھانے کا عمل پایا گیا ہے۔
   اور علامہ نظام الدین حنفی متوفی١١٦١ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے لکھا ہے:تفسد صلاتہ بالفتح مرة ولا یشترط فیہ التکرار وھو الاصح ھکذا فی فتاوی قاضیخان۔(الفتاوی الھندیة،٩٩/١)
یعنی،بے محل ایک دفعہ لقمہ دینے ہی سے نماز فاسد ہوجاتی ہے کہ اِس میں اصح قول کے مطابق تکرار شرط نہیں ہے۔
   اور مفتی محمد وقار الدین حنفی متوفی١٤١٣ھ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص تراویح پڑھا رہا تھا وہ دو رکعت پر تشہد میں بیٹھا پچھلی صفوں میں سے نمازیوں نے لقمہ دیا، ان کے گمان میں ایک رکعت ہوئی تھی، امام نے ان کا لقمہ نہیں لیا بلکہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرا اور دو رکعت مکمل کرلیں جن دو شخصوں نے لقمہ دیا تھا ان کی نماز ہوئی یا نہیں؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے جوابًا ارشاد فرمایا:جب امام دو رکعت پر صحیح بیٹھا تھا تو لقمہ دینے والوں نے بلا ضرورت لقمہ دیا، لہٰذا ان کی نماز فاسد ہوگئی۔(وقار الفتاوٰی،٢٣٥/٢۔٢٣٦)واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان، کراچی
منگل،١٤/ربیع الاول،١٤٤٤ھ۔١١/اکتوبر،٢٠٢٢ء









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney