جوشریعت کی بات نہ مانے اس پر کیا حکم ہے؟

 سوال نمبر 2282

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہوئی ہے اور شریعت کا حکم ہے کہ اب شرعی اعتبار سے حلالہ ہوگا یہ قانون بتانے پر زید کے والدین اور بہن نے اس قانون کو ماننے سے انکار کیا اور شدید مذمت اور مخالفت کی اور مغلظات بَکی (معاذاللہ) والد نے کہا کہ اہل ہنود کا مذہب صحیح ہے (معاذاللہ) اور وہ صحیح کہتے ہیں کی مسلمانو کا کوئی دھرم نہیں ہے اور شریعت کو گالی بھی دی (معاذاللہ) والدہ  نے کہا کہ ہم اس قانون کو نہیں مانیں گے ایسا کچھ نہیں ہے اور بہن نے بھی اس قانون کو ماننے سے انکار کیا اور علما کی ماں بہن کو گالیاں دیں (معاذاللہ) حضور ایسے لوگو پر شریعت کا کیا حکم ہے جو دین اسلام کے خلاف بات کریں اور گالیاں دیں؟
ہمیں اس کا جواب تحریری جواب فتوے کی شکل میں عطا کیجئے!
المستفتی : عبد الغفار بلرامپوری یوپی
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب 
جس عورت کو طلاق مغلظہ دی گئی شرعی اعتبار سے بغیر حلالہ و عدت کۓ شوہر کے لئے حرام ہے اور تین طلاق والی عورت کا شوہر پر حرام ہونا ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین میں سے کسی بھی ایک کا انکار بلکہ ان میں ادنی سا شک کرنابھی کفر قطعی ہے اور اس کا منکر کافر ہے اور ایسا کافر کہ اس کے کفر پر مطلع ہو کر اس کے کافر ہونے میں جو ادنی ساشک کرے وہ بھی کافر ہے۔
قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید ،
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ ،
 "پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے 
( کنز الایمان سورۃ بقرہ آیت ٢٣٠ )
فتاوی ھندیه میں ہے!
رجل عرض عليه خصمه فتوى الأئمة، فردها، وقال: جه بار نامه فتوى آورده قيل يكفر؛ لأنه رد حكم الشرع، وكذا لو لم يقل شيئا لكن ألقى الفتوى على الأرض، وقال أين جه شرع است كفر. رجل استفتى عالما في طلاق امرأته فأفتاه بالوقوع، فقال المستفتي: من طلاق ملاق جه دانم مادر بجكان بايد كه بخانه من بود أفتى القاضي الإمام علي السغدي بكفره كذا في الفصول العمادية.
" ایک شخص کے سامنے کسی نے اماموں کا فتوی پیش کیا پس اس نے رد کر دیا اور کہا کہ یہ کیا کھرا انبار فتویٰ لیا ہے تو بعض نے فرمایا کہ تکفیر کیا جائے گا اس وجہ سے کہ اس نے حکم شرع کورد کر دیا اور اسی طرح اگر اس نے کچھ نہ کہا فقط فتوی زمین پر ڈال دیا اور کہا کہ یہ کیا شرع ہے تو بھی یہی حکم ہے ایک شخص نے کسی عالم کے پاس ایک صورت پیش کی کہ اس سے میری بیوی پر طلاق ہوئی یا نہیں پس عالم موصوف نے فتوی دیا کہ واقع ہوگئی پس فتوی پو چھنے والے نے کہا کہ میں طلاق ولاق کیا جانوں بچوں کی ماں میرے گھر میں رہنا چا ہیے تو قاضی امام علی سعدی نے اس کے کفر پر فتوی دیا ہے یہی فضول عمادیہ میں ہے۔
( ج ، ٢ ص ، ٢٩٩ ، مطبوعہ مصر)
سرکار اعلیٰ حضرت ضروریات دین کےتحت تحریر فرماتے ہیں!
مسلمانو ! مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ضروریات دین اُن کا منکر بلکہ اُن میں ادنٰی شك کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ جو اس کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافر۔
( فتاوی رضویہ جلد ٢٩. ص . ٤١٣ رضا فاؤنڈیشن لاہور )
(ایضاً)
کہ ضروریات دین کا جس طرح انکار کفر ہے یونہی ان میں شك و شبہہ اور احتمال خلاف،ماننابھی کفر ہے یونہی ان کے منکر یا ان میں شاك کو مسلمان کہنا اسے کافر نہ جاننا بھی کفر ہے
(ج ١٤ ص ٣٣٨ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
المستند المعتمد علی المعتقد المنتقد  میں ہے!
جو بد مذہبوں کی بات کو اچھا کہے یا یہ کہے کہ وہ بامعنی کلام ہے یا یہ کہے کہ اس کلام کا صیح معنی ہے، اگر اس قائل کی وہ بات کفر یہ ہو تو اچھا کہنے والا کافر ہو جاۓ گا !
( ص ٤٠٨  مکتبہ جامعۃ الرضا بریلی شریف )
لہذا مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ زید کے والدین اور بہن کافر و مرتد ہو گئے کیونکہ جب ان کو فرمانِ باری تعالیٰ بتایا گیا تو اس کو ماننے سے انکار کردیا جو کہ کفر ہے مزید برآں یہ کہ قانون شریعت کو مغلظات بکا اور اس کی سخت مخالفت کی جو کہ کفر ہے اور اہل ہنود کے مذہب کو صحیح ماننا اور مذہب اسلام کو کہنا مسلمانوں کا کوئی مذہب نہیں ہے وغیرہ وغیرہ معاذاللہ یہ سب کفر در کفر ہے ،جب کہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ مذہب ،مذہبِ اسلام ہے، قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید ،اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫،بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے ، لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کو مجبور کریں کہ یہ توبہ و تجدید ایمان و نکاح کریں اگر ایسا کرتے ہیں تو فبھا ورنہ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کا مکمل بائیکاٹ کریں
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الھند
١٧، ربیع الاول ١٤٤٤ ھ










ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney