عقیقہ میں بال کے برابرچاندی صدقہ کرنا کیاہے؟

سوال نمبر 2284

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علماںٔے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ عقیقہ میں بال منڈوا کر اس کے برابر جو صدقہ کرتے ہیں تو یہ صدقہ کرنا سنت ہے یا واجب؟ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔
(ساںٔل:اشراق علی نظامی سنت کبیر نگر)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:مستحب ہے۔چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی١٢٥٢ھ لکھتے ہیں:یستحب لمن ولد لہ ولد ان یسمیہ یوم اسبوعہ ویحلق راسہ ویتصدق بزنة شعرہ فضة او ذھبا۔ملخصًا
(رد المحتار علی الدر المختار،٣٣٦/٦)
یعنی،جس کے یہاں بچے کی ولادت ہو اس کیلںٔے مستحب ہے کہ وہ ساتویں دن بچے کا نام رکھے اور اس کا سر مونڈے اور ان بالوں کو وزن کرکے اتنی مقدار میں سونا یا چاندی صدقہ کرے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان، کراچی
منگل،٢١/ربیع الاول،١٤٤٤ھ۔١٨/اکتوبر،٢٠٢٢ء









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney