بیٹی کے ساتھ بھتیجہ ہو تو کس کو کتنا ملے گا؟

 سوال نمبر 2320

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ماں کا انتقال ہوگیا ہے ان کے شوہر اور دو بھائی پہلے ہی انتقال کرگئے ہیں، اور بہنیں نہیں تھیں، اب اس کے وارثوں میں صرف ایک ہی بیٹی ہے تو کیا والدہ کا سب مال اس بیٹی کو دیا جائے گا یا پھر پہلے فوت ہونے والے بھائیوں کے
بچوں کو بھی کچھ حصہ دیا جائے گا؟
(سائل:بواسطہ عمار مدنی، کراچی)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:برتقدیر صدقِ سائل وانحصار ورثاء در مذکورین بعدِ اُمورِ متقدّمہ علی الارث مرحومہ کے مکمل ترکہ سے نصف یعنی آدھا مال ان کی ایک بیٹی کو ملے گا۔چنانچہ قُرآنِ کریم میں ہے:اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔(النسآء:١١/٤)
ترجمہ:اگر ایک لڑکی(ہو) تو اس کا آدھا۔(کنز الایمان)
   اور بقیہ آدھا مال ان کے سب بھتیجوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا، بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔چنانچہ حدیث شریف میں ہے:الحقوا الفرائض باھلھا، فما بقی فھو لاولی رجل ذکر۔(صحیح البخاری،۹۹۷/۲)
یعنی،فرائض ذوی الفروض کو دو اور جو بچ جائے وہ قریب ترین مرد کے لئے ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان،کراچی
ہفتہ،٢٣/ربیع الآخر،١٤٤٤ھ۔١٩/نومبر،٢٠٢٢م











ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney