سوال نمبر 2676
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر مٹی کا ڈھیلا موجود نہ ہو تو اینٹ یا پتھر یا کسی جانور کی ہڈی سے استنجاء کر سکتے ہیں یا نہیں?جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پتھر اور ہڈی سے استنجاء نہیں کرنا چاہیے اس لئے کہ یہ جنات کی غذا ہے اب اس میں صحیح کیا ہے شرع کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
سائل غلام جیلانی
سعد اللہ نگر بلرام پور
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب: ہر ایسی چیز جس میں نجاست دور کرنے یا جذب کرنے کی صلاحیت ہو اور اس کی کوئی قیمت نہ ہو اور نہ اس سے نقصان کا خدشہ ہو تو اس سے استنجا کرنا جائز ہے جیسے مٹی کا ڈھیلا، پتھر، کچی اینٹ، اور پھٹا ہوا کپڑا
لہذا پتھر اور کچی اینٹ سے استنجا کرنا جائز ہے، لیکن پکی اینٹ اور ہڈی سے استنجا کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ پکی اینٹ قیمتی ہے اور ہڈی جنات کی غذا ہے۔ اور ہڈی سے استنجا کرنے سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے
جامع الترمذی میں ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «لَا تَسْتَنْجُوْا بِالرَّوْثِ، وَلَا بِالْعِظَامِ، فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ»
ترجمہ: حضرتِ عبد بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ گوبر اور ہڈی سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائی جنوں کی غذا ہے۔(ابواب الطھارۃ، باب ماجاء فی کراھیۃ ما یستنجی به، الحدیث ۱۸، جلد ۱، صفحہ ۱۸، مطبوعہ بیت الافکار الدولیۃ)
حضرت علامہ نظام الدین رحمۃ اللّٰہ علیہ اور علماء ہند کی ایک جماعت نے تحریر فرمایا ہے کہ:”یجوز الاستنجاء بنحو حجر منق کالمدر والتراب والعود والخرقة والجلد وماأشبهها،"
ترجمہ: پاک کرنے والے پتھر جیسے ڈھیلا اور مٹی، لکڑی، کپڑے کا ٹکڑا، چمڑا، اور جو ان مشابہ ہو اس سے استنجا کرنا جائز ہے۔(فتاویٰ عالمگیری، جلد ۱، صفحہ ۴۸، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت-لبنان)
اسی میں ہے:"ويكره الاستنجاء بالعظم والروث والرجيع والطعام واللحم والزجاج والخزف وورق الشجر والشعر، هكذا في التبيين."(ترجمہ: اور ہڈی، گوبر، پاخانہ، کھانے، گوشت، شیشہ، مٹی کے برتن، درخت کے پتے، اور بالوں سے استنجا کرنا مکروہ ہے ایساہی تبیین الحقائق میں ہے۔(فتاویٰ عالمگیری، جلد ۱، صفحہ ۵۰، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت-لبنان)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمّد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا ہے کہ: کنکر، پتھر، پھٹا ہوا کپڑا یہ سب ڈھیلے کے حکم میں ہے، ان سے بھی صاف کرلینا بلا کراہت جائز ہے۔
ہڈی اور کھانے اور گوبر اور پکی اینٹ اور ٹھیکری اور شیشہ اور کوئلے اور جانور کے چارے سے اور ایسی چیز سے جس کی کچھ قیمت ہو اگرچہ ایک آدھ پیسہ سہی ان چیزوں سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔(بہار شریعت، جلد ۱، صفحہ ۴۱۱، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
واللہ تعالی عزوجل ورسولہ ﷺ أعلم بالصواب
کتبه: عبد الوکیل صدیقی نقشبندی فلودی راجستھان الھند
خادم: الجامعۃ الصدیقیہ سوجا شریف باڑمیر راجستھان الھند
٢۷ صفر المظفر ١۴۴۶ھ۔ ٢٢ اگست ۲۰۲۵ء۔ بروز الجمعۃ المبارک
0 تبصرے