سوال نمبر 2677
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اکیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ربیع الاول کے موقع پر عام طور پر ہر کسی کو (دیوبندی، وہابی، غیر مسلم) کو کھلانا پلانا کیسا (لنگر) کے ذریعہ
المستفتی :- توحید سلمانی
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
نیاز و لنگر کا کھانا نہ کسی وہابی و دیوبندی کوکھلانا جائز ہے اور نہ کسی کافر حربی کو کھلانا جائز ہے! نیاز لنگر اپنی جگہ ویسے بھی ان کو کھلانا جائز نہیں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہابی دیوبندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کافر و مرتد ہیں جن پر علماء حرمین و دیگر اکابرین امت نے کفر کافتویٰ صادر فرمایا (حسام الحرمین)
یہ ایسے کافر ہیں کہ جن کے کفر میں کوئی شک کرے وہ بھی کافر من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر (فتاویٰ ھندیہ) جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
اِیَّا کُمْ وَ اِیَّا ھُمْ لَا یُضِلُّو نَکُمْ وَلَا یُفْتِنُو نَکُمْ اِنْ مَرِضُوْ فَلَا تَعُوْ دُوْھُمْ وَاِنْ مَا تُوْا فَلَا تَشْھَدُوْ ھُمْ وَاِنْ لَقِیْتُمُوْ ھُمْ فَلَا تُسَلِّمُوْا عَلَیْھِمْ وَلَا تُجَا لِسُو ھُمْ وَلَا تُشَا رِبُوا ھُمْ وَلَا تُوَا کِلُوا ھُمْ وَلَا تُنَا کِحُوْ ھُمْ وَلَا تُصَلُّوْا عَلَیْھِمْ وَلَا تُصَلُّوْ مَعَھُمْ
اگر وہ بیمار پڑجائیں تو انکی عیادت نہ کرو ،اگر مر جائیں تو انکے جنازہ میں شریک نہ ہو،ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ،انکے پاس نہ بیٹھو ،نہ انکے ساتھ پانی پیو ،نہ ان کے ساتھ کھانا کھائو ،نہ انکے ساتھ شادی بیاہ کرو ،نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔(انوار الحدیث)
مذکورہ حدیث پاک سے ظاہر و باہر ہے کہ ان خبثاء کےساتھ عام کھانا پینا منع ہے تو نیاز و فاتحہ کا کھلانا تو بدرجہ اولی جائز نہ ہوگا
اسی طرح کافر حربی کو بھی لنگر و فاتحہ کا کھانا کھلانا جائز نہیں جیسا کہ حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ حربی کفار کو نہ فاتحہ کی شیرینی دینی درست نہ غیر فاتحہ کی۔ فتاویٰ مصطفویہ ، ص ٤٥٣ (شبیر برادرز لاہور)
لنگر وغیرہ کے موقع پر ہر کسی کے مذہب و مسلک کا علم ہو باٹنے والے کو یہ بھی ممکن نہیں تو اگر لاعلمی میں دیا تو کوئی مواخذہ نہیں اور اگر یہ معلوم ہو کہ لنگر کا مطالبہ کرنے والا وہابی ، دیوبندی یا اور کوئی بدمذہب یا کافر حربی ہے تو ہرگز ہرگز نہ دے چونکہ ان کو دینا جائز نہیں لیکن جہاں شدید فتنہ کا اندیشہ ہو تو وہاں مجبوراً دے سکتا ہے مگر نیت ثواب نہ رکھے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
عبیداللہ حنفی بریلوی مقام دھونرہ ضلع بریلی شریف
٢٧ صفر المظفر ١۴۴٧ھ
0 تبصرے