سوال نمبر 2678
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
علماء اہلسنت کی بارگاہ سوال عرض ہے کہ مسجد کے امام صاحب مسلسل ظہر کی نماز میں جماعت کے وقت آتے ہیں اور فرض پڑھانا شروع کردیتے ہیں پھر بعدمیں سنت موکدہ پڑھتےہیں جب کہ انکا مکان بھی مسجد میں ہے اور کسی طرح کی کوئی مجبوری بھی نہیں تو امام صاحب کے لۓ کیا حکم شرع ہوگا کیا انکے پیچھے نماز ہوجاٸیگی جب کہ سنت قبلیہ کو موخر کرنے کی عادت بنا لئے ہیں
ساٸل محمد احمد
ایم پی انڈیا
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
صورت مستفسرہ میں امام صاحب کی اقتداء میں نماز تو ہو جائے گی مگر امام صاحب گنہگار ہوئے ان پر لازم ہے کہ توبہ کریں اور آئندہ ایسی حرکت نہ کریں بلکہ سنت پڑھنے کے بعد جماعت قائم کریں اور جو وقت سہولت کے لئے متعین ہوتا ہے اس وقت سے دو پانچ منٹ کبھی کبھار لیٹ جماعت کھڑی کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے
حضور بحر العلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں " ظہر کی سنتیں اگرچہ بعد فرض پڑھ لے گا مگر بلاعذر ہے اس کو اس کی جگہ سے ہٹانا بھی برا ہے کہ سنت قبلیہ میں اصل سنت یہی ہے کہ وہ فرض سے قبل پڑھی جائے جماعت قائم ہو چکنے کے بعد مقتدی کا جماعت میں مشغول ہونا اور سنت کا مؤخر کرنا عذر شرعی کی وجہ سے ہے ۔ مگر بلا وجہ امام کا مؤخر کرنا سنت کے خلاف ہے ۔
اس سے آپ کے سوال کا جواب بھی ہو گیا ۔ نماز تو ہو جائے گی مگر امام نے برا کیا ۔ اور اگرمؤخر کرنے کی عادت کر لی ہے اور بار بار ہی کرتا ہے ۔ تو گنہگار بھی ہوگا ۔
فتاوی رضویہ میں ہے : قول الامام الاجـل فـخـر الاسلام ان تـارك السنة المؤكدة يستوجب الإساءة أي بنفس الترك وكراهة اي تحريمية اي عند الاعتياد۔
(فتاوی بحر العلوم جلد اول صفحہ 384مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
امام صاحب کو سمجھایا جائے کہ وہ ہمیشہ تاخیر کرنے کی عادت نہ کریں اور اپنی حرکت پر توبہ کریں اور کبھی کبھار تاخیر ہو جائے تو جماعت وقت متعینہ سےدو پانچ لیٹ کھڑی کریں اور اس تاخیر پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں کیونکہ جو وقت متعین ہوتا ہے وہ سہولت کے لئے ہے نہ کہ اس کے بعد وقت ہی ختم ہوجاتا ہے تو اگر امام صاحب مذکور باتوں پر عمل کریں تو ٹھیک ورنہ پابند امام کا انتظام کریں۔
واللہ تعالیٰ و رسولہ اعلم بالصواب
فقط
محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی ارشدی
0 تبصرے