سوال نمبر 2688
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد سلام عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید یا اس کے گاؤں کے دیگر لوگ نمبر (١)غیر مسلموں کے پرو تہواروں میں
نمبر (٢) غیر مسلموں کی میت یہاں تک کی ان کے سمشان گھاٹ بھی جاتے ہیں
نمبر (٣) ان کی میت کے بعد جو سراد ہوتا ہے جس طرح ہمارے میں تیجہ دسواں بیسواں 40واں ہوتا ہے اسی طرح ان کا سراد ہوتا ہے یا ان کے دھرم کا کوئی پوجا یا اس طرح کی کوئی بھی محفل ہوتی ہے تو مسلمان لوگ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ ان ساری چیزوں کو جو کرتا ہے اس مسلمان اس شخص کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
حشمت رضا نظامی
حال مقیم کچنار چھپرا
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
اسلام نے مسلمانوں کو عقیدہ، عبادت اور مذہبی شعائر میں غیر مسلموں سے امتیاز رکھنے کا حکم دیا ہے، البتہ معاشرتی حسنِ سلوک اور دنیاوی معاملات میں عدل و احسان کی اجازت بلکہ ترغیب دی ہے۔
قرآنِ کریم میں ہے "لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ" (الکافرون آیت 6) ترجمہ: تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین
اور حدیث میں ہے: "مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ" یعنی جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔
اسی اصول پر ذیل کے مسائل کو سمجھنا ہوگا غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں (جیسے دیوالی، ہولی، دسہرہ، کرسمس بطور مذہبی رسم) میں شرکت
شرعاً ناجائز و حرام ہے کیونکہ یہ ان کے کفر و باطل عقائد کی تعظیم اور مشابہت ہے اور اگر حق جان کر کرے تو کفر
غیر مسلم مردے کے ساتھ شمشان گھاٹ جانا گناہ ہے اور اگر مردے کو مسلمان جان کر جائے تو کفر ہے
اللہ تعالی کا ارشاد ہے "وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ" [التوبة آیت 84]
ترجمہ: اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بے شک وہ اللہ و رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے
اس آیت کے متعلق تفسیر خزائن العرفان ص 376 میں ہے اس آیت میں سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین کے جنازے کی نماز اور ان کے دفن میں شرکت کرنے سے منع فرمایا گیا مسئلہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافر کی قبر پر دفن و زیارت کے لیے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے اور یہ جو فرمایا اور فسق ہی میں مر گئے یہاں فسق سے کفر مراد ہے قرآن کریم میں اور جگہ بھی فسق بمعنی کفر وارد ہوا ہے
حضور فقیہ عصر شارح بخاری حضرت علامہ و مولانا مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ غیر مسلم مردے کے ساتھ شمشان گھاٹ جانا گناہ ہے اور اس طرح جائے کہ وہ بھی ان کی بولی بولتا ہے تو کفر ہے اور اس صورت میں یہ حکم ہے کہ توبہ تجدید ایمان کرے بیوی والا ہے تو تجدید نکاح بھی کرے اور اگر بیوی والا نہیں ہے تو صرف تجدید ایمان کرے (فتوی شارح بخاری ج 2 ص 560)
غیر مسلموں کی میت کے بعد ہونے والی مذہبی رسومات
شرادھ پوجا پاٹھ دیوی دیوتاؤں کے نام پر محفل میں شرکت کرنا سخت حرام ہے اور اگر دل سے ان کے عقیدے کو درست سمجھے یا اس کی تعظیم کرے تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج اگر کھانا دیوی دیوتاؤں کے نام پر نذر ہو
پوجا یا شرادھ کے لیے مخصوص ہو
تو ایسا کھانا حرام ہے کیونکہ یہ غیر اللہ کے نام پر چڑھایا ہوا ہے
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار


0 تبصرے