آپ قوم کی بہتری کے لئے کچھ ہدیہ کریں کلک کریں

کیا وقف شدہ زمین پر وارثوں کا بھی حق ہوتا ہے

 سوال نمبر 2689



کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

زید ایک مسجد کا خزانچی تھا اور لوگوں میں نیک، پرہیزگار اور متقی سمجھا جاتا تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں ایک زمین مدرسہ اور عیدگاہ کے لیے دی، اور کافی عرصہ تک وہاں باقاعدہ تعلیم اور نمازِ عید وغیرہ کا سلسلہ جاری رہا۔ زید کے انتقال کے بعد اس کے بعض ورثہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ زمین ہماری ملکیت ہے، ہم جس کو چاہیں پڑھانے دیں گے اور جس کو چاہیں نہیں دیں گے۔

ایسی صورت میں عید گاہ اور مدرسہ شرعاً وقف شمار ہوگی یا نہیں؟

کیا ورثہ کو اس میں تصرف کا اختیار ہے؟

اس عیدگاہ میں نماز پڑھنا اور اس مدرسہ میں بچوں کو تعلیم کے لیے بھیجنا شرعاً کیسا ہے؟

مزید یہ کہ موجودہ خزانچی مدرسہ کے مدرس کی دو تین ماہ کی تنخواہ روکے ہوئے ہے اور کہتا ہے کہ ہم اس سے راضی نہیں۔ اور راضی اس بناء پر نہیں ہیں کہ مدرس جو کہ مسجد کا امام ہے سچ اور حق بات بتاتا ہے مسلک اعلیٰ حضرت کیا ہے لوگوں کو بتاتا ہے 

4. کیا شرعاً کسی امام مدرس کی تنخواہ بلا وجہ روکنا جائز ہے ؟

نیز بکر نامی ایک قاری قرآن کافی عرصہ سے بچوں کو پڑھا رہا ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ:

اس کا بعض علماء سے اختلاف اور مسجد کے امام سے حسد ہے؛

وہ بعض مسالک (وہابی/دیوبندی) کے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے اور ان کے ساتھ شادیوں میں شرکت کرتا ہے؛

وہ کہتا ہے کہ میرے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔

کیا ایسے شخص سے نکاح پڑھوانا جائز ہے؟

کیا اس کے پاس بچوں کو قرآن کی تعلیم کے لیے بھیجنا درست ہے؟ اور اس کے پیچھے نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

المستفتی: مفتی محمد احمد رضا قادری حشمتی



الجواب اللہم ھدایۃ الحق والصواب 

واضح رہے کہ وقف کرنے سے وقف کردہ چیز واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں آ جاتی ہے پھر اس کے بعد واقف یا واقف کے ورثہ کو اس میں کسی بھی طرح کی مالکانہ تصرف کا اختیار نہیں ہوتا ہے 

لہذا زید نے جب مدرسہ اور عیدگاہ کے لئے زمین وقف کردی تو اس کا وقف کرنا درست ہے تو اب زید کے انتقال کے بعد زید کے ورثہ کا ملکیت کا دعویٰ کرنا ہی غلط ہے اور ان کا دعویٰ جھوٹا ہے

جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية" (جلد ٢ صفحہ ٣٥٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) 

مذکورہ مدرسہ میں بچوں کو تعلیم کے لئے بھیجنا اور وہاں نماز پڑھنا سب درست ہے جبکہ کوئی اور وجہ مانع نہ ہو چونکہ وہ وقفی زمین ہے نہ کہ زید کے ورثہ کی ملکیت ہے 

اور زید کے ورثہ کا یہ دعویٰ کرنا کہ جس کو چاہیں گے پڑھانے دیں گے جس کو چاہیں گے نہیں پڑھانے دیں گے یہ سراسر جہالت اور دادا گیری ہے یہ کمیٹی والوں کا کام ہے کہ کوئی پابند شرع مدرس کو پڑھانے کے لئے متعین کریں اور اگر پڑھانے والے میں شرعاً کوئی خامی نہیں ہے تو کسی کو حق نہیں ہے کہ ظلما اسے مدرسہ سے نکال دیں

حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں "

بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:

استفید من عدم صحۃ عزل الناظربلاجنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ

متولی وقف کو بلاجرم معزول کرنے کی عدم صحت سے معلوم ہوا کہ وقف میں کسی صاحب وظیفہ کوجرم اور عدم اہلیت کے بغیر معزول کرنا صحیح نہیں ( فتاویٰ رضویہ جلد ١٦)

موجودہ خزانچی کا یہ عمل کہ وہ مدرس کی  تنخواہ روکے ہوئے ہے جائز نہیں ہے فوراً مدرس کو تنخواہ ادا کرے اور تاخیر کرنے کی وجہ سے معافی مانگے حدیث شریف میں ہے"

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ

ترجمہ:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ سن لو! ظلم نہ کرو، کسی مسلمان کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں۔

(مشکوۃ شریف حدیث نمبر 2946)

سوال میں جس طرح مذکور ہے اگر واقعی بکر کی یہی حرکت ہے اور بدمذہبوں سے اس کا میل جول ہے تو بکر سے نہ نکاح پڑھوائیں اور نہ بچوں کو تعلیم دلوائیں جب تک کہ بکر توبہ و استغفار کرکے آئندہ بدمذہبوں سے دور رہنے کا وعدہ نہ کرلے

نوٹ۔ اگر دیہات ہے اور شہر کے شرائط نہ پائے جاتے ہوں تو ایسی جگہ عیدین جائز نہیں تو اس کے لیئے وقف کردہ زمین یعنی عیدگاہ وقف شمار نہیں ہوگا تو اس زمین پر ورثہ کا اختیار ہوگا اور اگر شہر کے شرائط پائے جاتے ہیں جہاں جمعہ و عیدین جائز ہیں تو عیدگاہ بھی وقف کی شمار ہوگی اور اس پر ورثہ کا کوئی اختیار نہ ہوگا

لیکن جو زمین بنام مدرسہ وقف کی گئی ہے وہ شہر ہو یا دیہات ورثہ کو اس پر کوئی اختیار نہیں 


واللہ اعلم بالصواب 

محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی خطیب و امام سنی غوثیہ جامع مسجد شانتی نگر بھیونڈی




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney