سوال نمبر 2690
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ کرام اِس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ سے جھگڑا کرنےکے درمیان غصے میں کہا کہ ابھی میں تم کو طلاق دے دوں گا پھر میاں بیوی کے درمیان باتیں بڑھتی گئیں یہاں تک کہ زید نے اپنے غصے پر قابو نہ رکھتے ہوئے اپنی بیوی کے سامنے کہ دیا طلاق طلاق طلاق کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اُسکا غصہ ٹھنڈا ہوا تب اُسے احسا س ہوا کہ ہم نے بہت غلط کیا اب زید کا کہنا ہے کہ تین بار جو ہم نے الگ الگ طلاق کے الفاظ بولے ہیں اُس وقت غصہ مجھ پر اتنا غالب تھا کہ میرا ذہن کام نہیں کر رہا تھا جیسے کہ اُس وقت میرا ذہن ہی مفلوج ہو گیا تھا
لہذا طلاق واقع نہیں ہوئ اور اُسکی بیوی ہندہ کا کہنا ہے کہ میرے شوہر نے طَلاق ط کے فتحہ کے ساتھ نہیں بلکہ ہمیں یاد ہے طلاق کے الفاظ ط کے کسرہ کے ساتھ یعنی طِلاق کے الفاظ بولے ہیں
علمائے کرام سے گزارش ہے کہ اِسکا جواب مع حوالہ تحریر فر ما کر شکریہ کا مو قع عنایت فر مائیں
نوازش ہوگی
العارض سُفیان رضا انصاری
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں تین طلاق واقع ہوگئی اور بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہوگئی اور اب رجوع کا حق ختم ہوگیا اور اب عدت گزرنے کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں مکمل آزاد ہے
قال اللہ تعالیٰ
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(230)
پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے۔( کنزالایمان)
اب ہندہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرے پھر وہ شوہر ثانی ہندہ سے ہمبستری کرے پھر شوہر ثانی طلاق دے یا فوت ہو جائے پھر عدت گزار کر زید سے نکاح کر سکتی ہے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں
جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے "وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ وَثِنْتَيْنِ فِي الْأَمَةِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا أَوْ يَمُوتَ عَنْهَا، كَذَا فِي الْهِدَايَةِ". ( جلد اول صفحہ ٥٠٦ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
زید کا یہ کہنا کہ غصے کی حالت میں طلاق دیا میرا ذہن کام نہیں کر رہا تھا اس لیے طلاق واقع نہ ہوئی یہ سراسر جہالت ہے چونکہ طلاق غصہ وغیرہ کی ہی حالت میں دیا جاتا ہے نہ کہ کوئی محبت بھرے پیغام میں دیتا ہے اور غصہ میں تو بلاشبہ عقل زائل ہو جاتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ طلاق واقع نہ ہوگی اور ہندہ کا یہ کہنا کہ طلاق ط کے فتحہ نہیں کسرہ کے ساتھ دیا ہے تو معلوم ہو کہ وقوع طلاق کے لئے کسرہ اور فتحہ سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا
جیسا کہ الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"باب الصریح: صریحہ ما کم یستعمل الا فیہ۔۔۔۔۔۔و یدخل نحو طلاغ، و تلاغ و طلاک تلاک او "ط ل ق" او "طلاق باش" بلا فرق بین عالم و جاھل، و ان قال: تعمدتہ تخویفا، لم یصدق قضاء، الا إذا اشھد علیہ قبلہ، بہ یفتی قال فی البحر؛ و منہ الالفاظ المصحفة، و ھی خمسة فزاد علی ماھنا"تلاق".
(249/3، ط: سعید)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی خطیب و امام سنی غوثیہ جامع مسجد شانتی نگر بھیونڈی


0 تبصرے