سوال نمبر 2691
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ حضرات اپنی زکوۃ معینہ وقت پر حساب لگار نکال لیتے ہیں اور کسی شرعی فقیر کے ذریعے اس کا حیلہ شرعی کرانے کے بعد اس رقم کو اپنے پاس روک کر رکھتے ہیں، اور پھر اس رقم کو پورے سال جہاں ان کو لگتا ہے استعمال کرتے ہیں ، اب جہاں وہ استعمال کر رہے ہیں چاہے وہ زکوۃ کا مصرف ہو یا نہ ہو اس کا کوئی خیال نہیں ہوتا ۔۔۔
کیا اس طرح کا عمل شرعی اعتبار سے درست ہے ؟ برائے کرم ! شرعی رہنمائی فرمائیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے شرعاً تملیکِ فقیر شرط ہے یعنی مستحق زکوٰۃ کو مال کا ایسا مالک بنانا کہ وہ اس میں مکمل تصرف کا حق رکھتا ہو اور دینے والے کی طرف سے کوئی شرط یا دباؤ نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے مصارفِ زکوٰۃ کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا انَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسٰكِيْنِ (سورۃ التوبہ آیت 60)
اس آیت میں "لِـ" تملیک کے لیے ہے، یعنی زکوٰۃ ان افراد کی ملک بنے گی۔
اور الہدایہ میں ہے "ولا بد من التمليك في الزكاة" یعنی زکوٰۃ میں تملیک ضروری ہے۔
اگر فقیر کو اس نیت سے دیا جائے کہ وہ واپس کرے گا تو ایسی تملیک معتبر نہیں کیونکہ یہ حقیقی ملکیت نہیں بلکہ حیلہ ہے، اور اگر پہلے سے طے ہو کہ فقیر رقم واپس کرے گا یا عرفاً یہی سمجھا جاتا ہو یا فقیر دباؤ میں واپس کرے تو ایسی صورت میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، رقم بدستور صاحبِ نصاب کے ذمہ باقی رہے گی، دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوگا۔
البتہ اگر بغیر کسی شرط کے حقیقی طور پر فقیر کو مالک بنایا فقیر نے اپنی خوشی سے بعد میں ہدیہ یا قرض کے طور پر واپس دی تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، لیکن اس طرزِ عمل کو معمول بنانا مکروہ اور خلافِ تقویٰ ہے، کیونکہ اس سے زکوٰۃ کی روح فوت ہو جاتی ہے۔
نتیجہ
صورتِ مسئولہ میں اگر رقم محض حیلہ کے طور پر گھما کر دوبارہ اپنے پاس رکھی جاتی ہے، تو یہ شرعاً درست نہیں، اور زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی زکوٰۃ عبادت ہے اور اس کا مقصد مستحقین کی اعانت ہے، لہٰذا اس میں صوری حیلوں سے بچنا لازم ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار


0 تبصرے