آپ قوم کی بہتری کے لئے کچھ ہدیہ کریں کلک کریں

طویل السفر مقررین کے نماز کا حکم

 سوال نمبر 2693

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ جو امام عرس وغیرہ میں جاتے ہیں 92 کلو میٹر دور پھر وہ آکر جائے امامت پر امامت کرنے لگتے ہیں وہ بھی پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت بھی نہیں رہتی ہے ہفتے کے بیچ میں گھر بھی چلے جاتے ہیں اب ان کی نماز اور مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہوگا ؟

المستفتی:- عفیف رضا


وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

اگر امام مسافتِ سفر 92 کلومیٹر يا اس سے زائد طے کرنے کا ارارہ رکھتا ہو اور 15 دن یا اس سے زیادہ کے قیام کی نیت نہ کرے، تو وہ شرعاً مسافر ہوتا ہے اور مسافر کی نماز قصر ہے۔ (عام کتب فقہ و فتاوی) 

امام صاحب مسافر ہیں اور انہیں ظہر، عصر، عشاء میں چار رکعت کے بجائے دو رکعت پڑھنی چاہییں،

حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مسافر پر واجب ہے کہ نماز میں قصر کرے یعنی چار رکعت والے فرض کو دو پڑھے اس کے حق میں دو ہی رکعتیں پوری نماز ہے اور قصداً چار پڑھیں اور دو پر قعدہ کیا تو فرض ادا ہوگئے اور پچھلی دو رکعتیں نفل ہوئيں مگر گنہگار و مستحق نار ہوا کہ واجب ترک کیا، لہذا توبہ کرے اور دو رکعت پر قعدہ نہ کیا تو فرض ادا نہ ہوئے اور وہ نماز نفل ہوگئی(بہار شریعت ،ج 1،ح 4، ص 743، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اگر وہ وہاں 15 دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت نہیں کرتے، چاہے ہفتہ کے درمیان آتے جاتے رہیں، جب تک مسافر کی حالت برقرار ہے، ان کے لیے قصر ہی واجب ہے۔

مسافر امام کا مقیم مقتدیوں کو نماز پڑھانا جائز ہے، لیکن ترتیب یہ ہوگی امام دو رکعت میں سلام پھیر دے گا، مقتدی کھڑے ہو کر بقیہ دو رکعتیں مکمل کریں گے۔

امامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مسافر اگر بے نیتِ اقامت چار رکعت پوری پڑھے گناہ گار ہوگا اور مقیمین کی نماز اس کے پیچھے باطل ہوجائے گی اگر دو رکعت اولیٰ کے بعد اس کی اقتداء باقی رکھیں گے (فتاوی رضویہ، ج 8، ص271، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بہارِ شریعت میں ہے ادا و قضا دونوں میں مقیم مسافر کی اقتدا کر سکتا ہے اور امام کے سلام کے بعد اپنی باقی دو رکعتیں پڑھ لے اور ان رکعتوں میں قراءت بالکل نہ کرے ،بلکہ بقدرِ فاتحہ چپ کھڑا رہے (بہارِ شریعت، ج1،ح 4، ص 748،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

  مسافر امام نے قصداً یا سہواً چار پڑھائیں بہر صورت آخری دو رکعتوں میں جن مقیم مقتدیوں نے اس کی اقتدا کی ان کی نماز باطل ہوگئی کہ نفل والے کے پیچھے فرض ادا کرنے والے کی نماز نہیں ہوتی علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں لو اقتدى مقيمون بمسافر وأتم بهم بلا نية إقامة وتابعوه فسدت صلاتهم لكونه متنفلا في الأخريين (ردالمحتار ، ج 2، ص 395، مطبوعہ :کوئٹہ) یعنی اگر مقیم مقتدیوں نے مسافر کی اقتدا کی اور مسافر نے ان کو بلا نیتِ اقامت مکمل نماز پڑھا دی اور ان مقتدیوں نے اس کی اتباع کی ،تو ان کی نماز فاسد ہوگئی ، کیونکہ مسافر آخری دو رکعتوں میں نفل پڑھنے والا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 


کتبہ 

محمد مدثر جاوید رضوی

 مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج

 ضلع، کشن گنج، بہار




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney