سوال نمبر 2694
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال ہے کہ جیسے ہندا کو شروع سے حیض کی مدت چھ دن کی تھی اور بعد میں دس بارہ سال تک چھ دن ہی تک رہا لیکن کچھ دنوں سے تین دن میں پاک ہو جاتی ہے اور پھر دو دن کے بعد پھر دو تین دن تک رہتا ہے تو کیا پورے دس دن تک روزہ نہیں رکھ سکتی ہے یا تین دن کے بعد روزہ رکھ سکتی ہے جزاک اللہ خیرا کثیرا
سائلہ نزہت فاطمہ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
حیض کی مدت کم از کم تین دن تین راتیں اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن دس راتیں ہے،اس دوران جب بھی خون آئے اگرچہ وقفے وقفے سے،وہ حیض شمار ہوگا جبکہ کم از کم تین دن رات جاری رہے اور دس دن رات سے آگے نہ بڑھے۔
سوال سے ظاہر ہے کہ ہندہ کو تین دن حیض کا خون آتا ہے پھر دو دن کے وقفہ کے بعد دو تین دن پھر آتا ہے شروع اور آخر اور وقفہ کے دن ملا کر سات یا آٹھ دن ہوتے ہیں چونکہ جو خون دو دن کے وقفہ کے بعد آتا ہے وہ بھی حیض ہی میں شمار ہوگا اس لئے دس دن کے اندر جب خون آنا بند ہو جاتا ہے حیض ختم مانا جائے گا وہ ساتواں دن ہو یا آٹھواں پہلے ہندہ کی جو بھی عادت رہی ہو لیکن اب اس کی عادت بدل چکی ہے وہ سات یا آٹھ دن ہے جب حیض بند ہوا اس پر روزہ نماز بدستور ادا کرنا لازم ہے دس دن پورا کرنے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے
کما في رد المختار:
"قوله ( والزائد على أكثره ) أي في حق المبتدأة أما المعتادة فما زاد على عادتها ويجاوز العشرة في الحيض والأربعين في النفاس يكون استحاضة كما أشار إليه بقوله أو على العادة الخ أما إذا لم يتجاوز الأكثر فيهما فهو انتقال للعادة فيهما فيكون حيضا ونفاسا ".(كتاب الطهارة ، باب الحيض ،جلد اول صفحہ ٤٧٧، مطبوعہ دارعالم الکتب ریاض ).
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما صاحبة العادة في الحيض إذا كانت عادتها عشرة فزاد الدم عليها فالزيادة استحاضة وإن كانت عادتها خمسة فالزيادة عليها حيض معها إلى تمام العشرة لما ذكرنا في المبتدأة بالحيض وإن جاوز العشرة فعادتها حيض وما زاد عليها استحاضة".(كتاب الطهارة ، فصل في أحكام الحيض و النفاس،جلد اول صفحہ ٢٩٦/٩٧ مطبوعہ:دار الكتب العلمية).
حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:”جس عورت کو تین ۳ دن رات کے بعد حَیض بند ہو گیا اور عادت کے دن ابھی پورے نہ ہوئے یا نِفاس کا خون عادت پوری ہونے سے پہلے بندہو گیا، تو بند ہونے کے بعد ہی غُسل کرکے نماز پڑھنا شروع کردے۔ عادت کے دنوں کا انتظار نہ کرے۔۔۔ حَیض یا نِفاس عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے بندہو گیا تو آخرِ وقتِ مستحب تک انتظار کرکے نہا کر نماز پڑھے اور جو عادت کے دن پورے ہو چکے تو انتظار کی کچھ حاجت نہیں۔“(بہارِشریعت، جلد1، صفحہ381، مکتبۃ المدینہ)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی خطیب و امام سنی غوثیہ جامع مسجد شانتی نگر بھیونڈی


0 تبصرے