آپ قوم کی بہتری کے لئے کچھ ہدیہ کریں کلک کریں

قربانی میں دیوبندی شریک ہو لیکن ذبح کے بعد اسکا نام نہ لیا جائے تو

 سوال نمبر 2695


کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع عظام اس مسئلے میں کہ قربانی کے سات شریکوں میں ایک وہابی بھی شریک ہے یعنی اس کا پیسہ بھی ایک حصے کے لیئے لگا ہے لیکن سنی ذابح نے اس وہابی کا نام نہ لیکر کسی سنی کا نام لیا تو کیا سب کی قربانی درست ہو جائے گی  ؟

جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں

سائلہ  :  بنت عبد اللہ


الجواب بعون الملک الوہاب 

صورتِ مسئولہ میں اگر قربانی کے جانور میں ایک حصہ کسی وہابی شخص کا تھا، لیکن ذبح کرتے وقت اس کا نام لینے کے بجائے کسی سنی شخص کا نام لے لیا گیا، تو اس سے قربانی کے صحیح ہونے یا نہ ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا؛ کیونکہ قربانی کی صحت کا دار و مدار نیت اور مالکِ حصہ کی تعیین پر ہے، زبان سے نام لینے پر نہیں۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (سورة الفاطر آیت 38) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے۔

دوسری جگہ قرآن میں ہے: الا یعلم من خلق (سورۃ الملک آیت 14) کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا 

تفسیر صدر الافاضل حضرت علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمت اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اپنی مخلوق کے احوال کو۔

خزانۃ الاکمل میں ہے”ولو لم یذکر اسماءھم عند الذبح جاز ،والمعتبر ھو النیۃ“ذبح کےوقت شرکاء کے نام زبان سے نہیں کہے جب بھی جائز ہے کہ معتبر نیت ہے۔(خزانۃ الاکمل، ج 3، ص 512، دار الکتب العلمیۃ ،بیروت)

اگر ذبح کے وقت شریکوں کے نام زبان سے نہ بھی لیے جائیں تو بھی قربانی جائز ہے، کیونکہ اعتبار نیت کا ہے۔ 

حضور صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: گائے کے شرکا میں سے ایک کافر ہے یا ان میں ایک شخص کا مقصود قربانی نہیں ہے ،بلکہ گوشت حاصل کرناہے،تو کسی کی قربانی نہ ہوئی (بہار شریعت ،ح 15،ص343،مطبوعہ مکتبہ المدینہ)

مذکورہ حوالہ جات سے واضح ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ قربانی کس کی طرف سے کی جا رہی ہے قربانی کون کر رہا ہے اس لیے مذکورہ شخص کا نام قربانی کے وقت ہٹا لینے سے قربانی صحیح نہ ہوگا بلکہ جملہ شرکا کا مسلمان ہونا لازمی ہے


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب 

 

کتبہ 

 محمد مدثر جاوید رضوی 

 مقام۔ دھانگڑها، بہادر گنج 

 ضلع۔ کشن گنج، بہار




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney