آپ قوم کی بہتری کے لئے کچھ ہدیہ کریں کلک کریں

بٹائی پر کھیت لینا کیسا ؟

 سوال نمبر   2696

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ کھیت کو غلے پہ لینا کیسا ہے یعنی پیداوار میں کچھ حصہ مالک زمین کو دینا اور کچھ خود رکھنا کیسا جسے کچھ جگہ بٹائی پر کھیت لینا یا کوت پر کھیت لینا کہتے ہیں 

بینو و توجر

سائل  : سلمان اختر



وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

کھیت (زمین) کو اس شرط پر دینا یا لینا کہ پیداوار کا ایک متعین حصہ مالکِ زمین کو ملے گا اور باقی کاشتکار لے گا، فقہِ اسلامی میں مزارعت کہلاتا ہے، اگر زمین مالک کی ہو، محنت اور کاشت کا کام کسان کرے، اور پیداوار کو باہمی رضامندی سے نصف، تہائی، چوتھائی یا کسی اور مشاع (فیصدی) حصے کے اعتبار سے تقسیم کرنے کا معاہدہ ہو، تو یہ جائز ہے۔ اسی طرح عرف میں جسے بٹائی پر زمین لینا یا دینا کہا جاتا ہے، وہ شرعی طور پر درست ہے، بشرطیکہ پیداوار کا حصہ فیصد یا تناسب کے اعتبار سے مقرر ہو !


بدائع الصنائع میں ہے وفي عرف الشرع عبارة عن العقد على المزارعة ببعض الخارج بشرائطه الموضوعة له شرعا (ج 8/ ص 255 ط:دار النشر)

اور شرعی عرف میں مزارعت اس عقد (معاہدہ) کو کہتے ہیں جو پیداوار کے ایک مقررہ حصے کے بدلے کیا جائے، ان شرائط کے ساتھ جو شریعت نے اس کے لیے مقرر فرمائی ہیں۔

تنویر الابصار والدرالمختار“ میں ہے:’’(وصح اشتراط العمل) ‌كحصاد ودياس ونسف على العامل (عند الثاني للتعامل وهو الأصح) وعليه الفتوى ملتقى‘‘ ترجمہ:امام ابو یوسف رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے نزدیک تمام کاموں مثلاً: کٹائی، دانوں کو بھوسے سے الگ کرنے اور چھاننے کے عمل یا اخراجات کو  تعاملِ  کے سبب مزارِع پر لازم قرار دینا بھی صحیح اور درست ہے۔ یہی قول اصح ہے۔ اِسی پر فتویٰ ہے۔ (تنویر الابصار و الدرالمختار ، جلد 21،کتاب المزارعہ،  صفحہ 115 ، مطبوعہ   دار الثقافۃ والتراث، دمشق)

حضور سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ’’إن هاهنا البذر والبقر والعمل كلها من المزارع دون رب الأرض‘‘ ترجمہ: ہمارے یہاں برصغیر میں بھی بیج، بیل اور تمام کام مزارِع کی طرف سے ہوتے ہیں، مالکِ زمین کی طرف سے نہیں۔(جد الممتار، جلد06، صفحہ417، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

لہٰذا اگر زمین مالک اور کاشت کار کے درمیان یہ طے ہو کہ حاصل ہونے والی پیداوار کا آدھا، تہائی یا کوئی اور متعین حصہ دونوں میں تقسیم ہوگا تو یہ معاملہ جائز ہے اور رہی بات کوت کے بارے میں کہ یوں شرط لگائی کہ فلاں کھیت کا غلہ یا اتنے من غلہ ضرور مالک کو دیا جائے، چاہے پیداوار کم ہو یا زیادہ ہو یا ہو یا نہ ہو ہر صورت میں کاشتکار پر یہ لازم ہوگا کہ مالک زمین کو اتنا غلّہ دینا ہوگا تو یہ صورت جائز نہیں، در مختار  میں ہے: بشرط (الشركة في الخارج)ثم فرع على الأخير بقوله (فتبطل إن شرط لأحدهما قفزان مسماة أو ما يخرج من موضع معين

(فتاوی شامی ،کتاب المزارعۃ،ج:6،ص:276،سعید)


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 



کتبہ

محمد مدثر جاوید رضوی 

مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج 

ضلع۔ کشن گنج، بہار




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney