آپ قوم کی بہتری کے لئے کچھ ہدیہ کریں کلک کریں

نماز میں رفع یدین کرنا کیسا؟

 

سوال نمبر 2697

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ نماز میں رفع یدین کرنا کیسا ہے ؟  اگر کوئی رفع یدین کرتا ہے تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے

بینو و توجر

سائل  عبد اللہ

الجواب بعون الملک الوہاب

نماز میں تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا سنتِ مؤکدہ ہے۔ البتہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفعِ یدین کے بارے میں فقہائے احناف کا مذہب یہ ہے کہ یہ منسوخ ہے، لہٰذا حنفی کے لیے تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ دیگر مواقع پر رفعِ یدین کرنا خِلاف سنت ہے۔ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی متعدد روایات سے استدلال کیا گیا ہے۔

چُنانچہ احادیث کی معتمد ومستند کتب میں حضرت سیدنا صدیق اکبر ،حضرت عمر اور مولائے کائنات علی المرتضی رضی اللہ عنھم اجمعین کے حوالے سے واضح روایات موجود ہیں کہ یہ حضرات رکوع کے موقع پر رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔

چنانچہ امام بیہقی رضی اللہ عنہ اپنی سنن کبری میں  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل فرماتے ہیں: عن علقمة عن عبد الله بن مسعود قال: صلیت خلف النبي صلی  الله علیه وسلم، وأبي بکر وعمرفلم یرفعوا أیدیهم إلا عند افتتاح الصلاة۔ یعنی حضرت علقمہ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنھما کے  پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے صرف نمازکے شروع میں رفع یدین کیا اس  کے علاوہ پوری نماز میں کہیں رفع یدین نہیں کیا۔ (السنن الکبری للبیهقي،جلد02،صفحہ 393،دار الفکر ،بیروت )

   اسی طرح حضرت اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رأیت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ یرفع یدیه في أول تکبیرة، ثم لایعود۔ یعنی میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز میں صرف شروع کی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے اس کے بعد کسی اور تکبیر میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (شرح معانی الآثار، باب التکبیر للرکوع والتکبیر للسجود، جلد 1، صفحہ 227، مطبوعہ عالم الکتب)

مؤطا امام محمد رحمہ اللہ میں ہے: حضرت عاصم بن کلیب جرمی رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت کلیب جرمی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا رأیت علی بن أبي طالب رفع یدیه في التکبیرة الأولی من الصلاة المکتوبة و لم یرفعهما سوی ذلك۔ یعنی میں نے حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم کو دیکھا کہ فرض نماز کی تکبیرِ اولیٰ (یعنی تکبیرِ تحریمہ) میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے، اور اس کے سوا (کسی اور تکبیر میں) ہاتھوں کو نہیں اٹھاتے تھے۔ (مؤطا إمام محمد، صفحہ 84،مطبوعہ لاہور)

فتاویٰ شامی میں ہے "لو اقتدى بمن يرفع يديه عند الركوع أو بمن يقنت في الفجر أو بمن يرى تكبيرات الجنازة خمسا لا يتابعه لظهور خطئه بيقين لأن ذلك كله منسوخ بدائع" (کتاب الصلوۃ، باب العیدین، ج 2، ص 172، ایچ ایم سعید)

اگر کسی ایسے امام کی اقتدا کرے جو رکوع جاتے اور اٹھتے وقت رفعِ یدین کرتا ہو، یا فجر میں قنوت پڑھتا ہو، یا نمازِ جنازہ میں پانچ تکبیروں کا قائل ہو، تو مقتدی ان امور میں اس کی پیروی نہ کرے، کیونکہ یقین کے ساتھ ان کا منسوخ ہونا ظاہر ہے۔

فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے "والاقتداء بشافعي المذهب إنما يصح إذا كان الإمام يتحامى مواضع الخلاف بأن يتوضأ من الخارج النجس من غير السبيلين كالفصد وأن لا ينحرف عن القبلة انحرافا فاحشا. هكذا في النهاية والكفاية في باب الوتر ولا شك أنه إذا جاوز المغارب كان فاحشا. كذا في فتاوى قاضي خان ولا يكون متعصبا ولا شاكا في أيمانه وأن لا يتوضأ في الماء الراكد القليل وأن يغسل ثوبه من المني ويفرك اليابس منه وأن لا يقطع الوتر وأن يراعي الترتيب في الفوائت وأن يمسح ربع رأسه.

هكذا في النهاية والكفاية في باب الوتر ولا يتوضأ بالماء القليل الذي وقعت فيه النجاسة كذا في فتاوى قاضي خان ولا بالماء المستعمل. هكذا في السراجية وذكر الإمام التمرتاشي عن شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده أنه إذا لم تعلم منه هذه الأشياء بيقين يجوز الاقتداء به ويكره. كذا في الكفاية والنهاية" (کتاب الصلوۃ، الباب الخامس فی الامامۃ، الفصل الثالث في بيان من يصلح إماما لغيره، ج 1، ص 84، مکتبہ رشیدیہ)

شافعی المذہب امام کی اقتدا اسی وقت درست ہے جب وہ اختلافی مسائل میں احتیاط کرتا ہو، مثلاً (پچھنا لگوانے یا) فصد وغیرہ سے، جو دونوں راستوں کے علاوہ کسی اور جگہ سے نجاست نکلے، اس کے بعد وضو کر لیتا ہو، اور قبلہ سے زیادہ انحراف نہ کرتا ہو۔ یہ بات النہایہ اور الکفایہ میں باب الوتر کے تحت مذکور ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مغرب کی سمت سے آگے بڑھ جائے تو یہ بہت زیادہ انحراف ہے۔ اسی طرح فتاویٰ قاضی خان میں ہے۔ نیز وہ (امام) اپنے مذہب کا متعصب نہ ہو، نہ اپنی قسموں کے بارے میں شک کرنے والا ہو، تھوڑے ٹھہرے ہوئے پانی میں وضو نہ کرتا ہو، کپڑے سے منی کو دھوتا ہو اور اگر خشک ہو تو اسے رگڑ کر صاف کرتا ہو، وتر کو درمیان میں نہ توڑتا ہو، فوت شدہ نمازوں میں ترتیب کا لحاظ رکھتا ہو، اور سر کے چوتھائی حصے کا مسح کرتا ہو۔ اسی طرح النہایہ اور الکفایہ میں باب الوتر کے تحت مذکور ہے۔ نیز وہ اس تھوڑے پانی سے وضو نہ کرتا ہو جس میں نجاست گر گئی ہو، جیسا کہ فتاویٰ قاضی خان میں ہے، اور نہ ہی مستعمل پانی سے وضو کرتا ہو، جیسا کہ السراجیہ میں ہے۔ امام تمرتاشی نے شیخ الاسلام، معروف بہ خواہر زادہ سے نقل کیا ہے کہ اگر ان مذکورہ امور کا اس شخص سے یقینی طور پر پایا جانا معلوم نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے، مگر مکروہ ہے۔ یہی الکفایہ اور النہایہ میں مذکور ہے۔

ہر شخص فقہی مسائل میں اپنے امام کی تقلید کا پابند ہے جیسا کہ الملل والنحل میں ہے :" أن علماء الفريقين: لم يجوزوا أن يأخذ العامي الحنفي إلا بمذهب أبي حنيفة، والعامي الشافعي إلا بمذهب الشافعي‘‘ یعنی دونوں فریق کے علما یہ جائز نہیں رکھتے کہ عامی حنفی مذہبِ ابو حنیفہ یا عامی شافعی مذہبِ شافعی کے سوا دوسرے  مذہب پر عمل کرے ۔ (الملل والنحل ، جلد 2، صفحہ10 ، مؤسسۃ الحلبی ،بیروت)

 حضور سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں امام مرشدُ الانام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں مخالفتہ للمقلد متفق علی کونہ منکرا بین المحصلین، ترجمہ: تمام منتہی فاضلوں کا اجماع ہے کہ مقلِّد کا  اپنے امام مذہب کی مخالفت کرنا شنیع و واجب الانکار ہے (فتاوی رضویہ ، جلد 6، صفحہ 706، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ 

محمد مدثر جاوید رضوی 

مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج 

ضلع۔ کشن گنج، بہار




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney