سوال نمبر 2698
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائ کرام مفتیان عظام سوال ایک شاعر نے یہ اشعار پڑھا کیا یہ صحیح ہے اس کے متعلق کیا فتوی ہے اشعار یہ ہے کہ
جس نے آدم کا پتلا بنایا ۔
بیڑا نوح کا جس نے پار لگایا ۔
سچ کہوں تو وہ ہاتھ علی کا تھا ۔
علماء کرام مفتیان عظام اس اشعار کے بارے میں کیا فرماتے ہیں اس شاعر کے بارے میں کیا کفر کا فتوی لازم ہے یا نہیں ایک قوال نے ہی قوالی پڑھی ہے حضرت اس کا جواب ہندی اور اردو میں جواب عنایت فرمائیں اور مہر کے ساتھ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
عقیدۂ اہلِ سنت و جماعت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تنہا خالق، مالک، رازق، مدبر اور حقیقی مؤثر ہے۔ کسی نبی، ولی، صحابی یا فرشتے کو اللہ تعالیٰ کے ذاتی اور مخصوص افعال میں شریک ماننا یا ان کی طرف مستقل طور پر ان افعال کی نسبت کرنا صریح گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْء (سورۃ الزمر: 62) ترجمہ کنزالایمان: اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے
اور ارشاد فرمایا وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ (سورۃ القمر: 13) ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے نوح کو سوار کیا تختوں اور کیلوں والی پر ۔۔
اگر اس شعر سے یہ عقیدہ مراد لیا جائے کہ حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حقیقتاً حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا یا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کو پار لگایا، تو یہ خلافِ قرآن اور کفریہ عقیدہ ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے مخصوص افعال کو غیرِ خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
البتہ کسی معین شاعر پر کفر کا فتویٰ لگانے میں جلد بازی جائز نہیں، کیونکہ فقہائے کرام نے واضح فرمایا ہے کہ جب تک اس شخص کی مراد، عقیدہ، قصد اور اس پر حجت قائم نہ ہو، اس وقت تک کسی معین شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی، حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہزار احتمالِ کفر موجود ہوں اور ایک احتمالِ اسلام ہو تو اسی احتمالِ اسلام کی بنا پر تکفیر سے احتراز کیا جائے گا۔
رد المحتار (فتاویٰ شامی) میں ہے لَا يُفْتَى بِكُفْرِ مُسْلِمٍ أَمْكَنَ حَمْلُ كَلَامِهِ عَلَى مَحْمَلٍ حَسَنٍ، ترجمہ: اگر کسی مسلمان کے کلام کی کوئی صحیح تاویل ممکن ہو تو اس پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔
صحیح بخاری و مسلم شریف میں ہے، واللفظ للثانی: اذا اکفر الرجل اخاہ فقد باء بھا احدھما، ترجمہ: جب کسی نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کافر کہا، تو یہ کفر دونوں میں سے کسی ایک پر لوٹے گا ۔ (الصحیح لمسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 57، مطبوعہ کراچی)
مذکورہ اشعار اپنے ظاہر کے اعتبار سے ناجائز اور عقیدۂ اہلِ سنت کے خلاف ہیں، اگر ان سے وہی کفریہ معنی مراد ہوں جو ظاہر الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں تو وہ معنی یقیناً کفریہ ہیں، لیکن صرف ان اشعار کی بنیاد پر کسی معین شاعر کو کافر کہنا جائز نہیں، جب تک اس کی مراد، عقیدہ اور شرائطِ تکفیر کی مکمل تحقیق نہ ہو، عوام کو ایسے اشعار سے دور رہنا چاہیے اور عقائد میں احتیاط برتنی چاہیے۔
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار


0 تبصرے