آپ قوم کی بہتری کے لئے کچھ ہدیہ کریں کلک کریں

ہیوی ڈیپوزٹ پہ مکان دینا کیسا ؟

 سوال نمبر 2699


السلام علیکم ورحمۃ اللہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کوئی شخص اپنا فلیٹ کسی کو اس صورت میں دیتا ہے کہ اپ مجھے پانچ لاکھ روپے دے دو جب تک رہنا چاہو رہو میں تم سے کرایہ نہیں لوں گا جب تم خالی کرو گے تو میں تمہارے پیسے یعنی پانچ لاکھ روپے واپس کر دوں گا تم میرا مکان بر تو اور میں تمہاری رقم استعمال کروں گا حدیث پاک کی روشنی میں مدلل حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں کیا یہ شرعی طور سے درست ہے یا نہیں۔۔


سائل عبدالحفیظ برکاتی دہلی


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

صورتِ مسئولہ میں اگر مکان مالک یہ شرط رکھتا ہے کہ تم مجھے پانچ لاکھ روپے دو تم جب تک رہنا چاہو میرے فلیٹ میں رہو میں تم سے کوئی کرایہ نہیں لوں گا اور جب تم فلیٹ خالی کرو گے تو میں تمہارے پانچ لاکھ روپے واپس کردوں گا تو یہ معاملہ شرعاً قرض کے بدلے منفعت حاصل کرنے کی صورت ہے جوكہ جائز نہیں، کیونکہ حقیقت میں پانچ لاکھ روپے مالکِ مکان کے پاس قرض ہوں گے اور اس قرض کے عوض قرض دینے والے کو مفت مکان میں رہنے کی منفعت حاصل ہو رہی ہے یہ منفعت قرض کی وجہ سے اور باہمی شرط کے تحت حاصل ہو رہی ہے اس لیے سود کے حکم میں داخل ہے۔

فقہی قاعدہ مشہور ہے كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا یعنی ہر وہ قرض جو قرض دینے والے کے لیے کوئی مشروط منفعت کھینچ لائے وہ سود ہے۔

سود کے تعلق سے قرآن کریم میں ہے وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا 

اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔ 

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ 

اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں کامیابی مل جائے۔


واللہ تعالیٰ اعلم 

 کتبہ 

 محمد مدثر جاوید رضوی 

مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج 

ضلع۔ کشن گنج، بہار




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney