فقہ اور اصول فقہ کسے کہتے ہیں؟

 سوال نمبر 1429


السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

فقہ اور اصول فقہ کسے کہتے ہیں کوئ مثال پیش فرما کر جواب عطا فرمائیں 

المستفتی :-نظام الدین رضوی پونا





وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوہاب


فقہ کی اصطلاحی تعریف

اہل فقہ کی اصطلاح میں فقہ کی مشہور تعریف یہ ہے 

ھوالعلم بالاحکام الشرعیۃ الفرعیۃ من ادلتھا لتفصیلیۃ

کہ فقہ، احکام شرعیہ فرعیہ کے اس علم کو کہتے ہیں جو احکام کی تفصیلی دلائل سے حاصل ہو 


احکام فرعی وہ ہیں جن کا تعلق عمل سے ہوتا ہے اور احکام اصلی وہ ہیں جن کا تعلق اعتقاد سے ہوتا ہے  احکام کے تفصیلی دلائل چار ہیں (١) قرآن پاک (٢) حدیث پاک (٣) اجماع (٤) قیاس



اصول فقہ کی تعریف

اصول فقہ کی دو طرح سے  تعریف کی جاتی ہے 

(١) اصول فقہ کی تعریف،،تعریف اضافی کے لحاظ سے کہ جس کو "حد اضافی "بھی کہا جاتا ہے تعریف اضافی یہ ہے کہ مضاف (اصول) کی الگ تعریف کی جائے اور مضاف الیہ (فقہ) کی الگ تعریف کی جائے

(٢) اصول فقہ کی تعریف ،،تعریف لقبی کے لحاظ سے کی جائے جس کو "حد لقبی" بھی کہا جاتا ہے تعریف لقبی  یہ ہے کہ مضاف (اصول) اور مضاف الیہ (فقہ) کے مجموعے کی ایک ہی تعریف کی جائے 

 

تعریف اضافی

تعریف اضافی میں پہلی جز اصول ہے جو فعول کے وزن پر اصل کی جمع ہے علمائے لغت نے اصل کی مختلف لغوی تعریفیں بیان فرمائی ہیں لیکن مشہور یہ ہے کہ لغت میں اصل کا معنی "جڑ " ہے  اسی طرح لفظ اصل کے مختلف اصطلاحی معانی بیان فرمائے مثلا

 (١) اصل بمعنی راجح ہو جیسے  ان الاصل فی الاستعمال الحقیقۃ

کہ استعمال میں حقیقت راجح ہے 

 (٢) اصل بمعنی قاعدہ ہو جیسے ان الفاعل مرفوع اصل من النحو

کہ فاعل کامرفوع ہونا نحو کا ایک قاعدہ ہے 

(٣) اصل بمعنی دلیل ہو جیسے ان آتواالزکوۃ اصل وجوب الزکوۃ ،،آیت،، واتواالزکوۃ "وجوب زکوٰۃ کی دلیل ہے 

(٤) اصل بمعنی استصحاب حال ہو جیسے طھارۃالماء اصل  کہ پانی میں اصل طہارت ہے  کہ کسی چیز کی موجودہ حالت کو سابقہ حالت پر قیاس کرنا استصحاب حال کہلاتا ہے ،،تعریف اضافی میں مضاف الیہ فقہ ہے 

لفظ فقہ کامادہ تین ابواب (١) سمع یسمع (٢) فتح یفتح (٣) کرم یکرم  سے آتا ہے لغت میں فقہ کا معنی فہم ،سمجھداری اور ذہانت کے آتے ہیں ، لفظ فقہ کی مختلف اصطلاحی تعریفیں بیان کی گئیں لیکن ان میں زیا دہ جامع اور مکمل تعریف یہ ہے 

العلم بالاحکام الشرعیۃ العملیۃ المکتسبۃ من ادلتھا التفصیلیۃ

فقہ،احکام شرعیہ عملیہ کے اس علم کا نام ہے کہ جو تفصیلی دلائل سے حاصل ہو 


 تعریف لقبی

اصول فقہ کی تعریف لقبی یہ ہے 

ھوالعلم بالقواعد التی یتوصل بھا الی استنباط الاحکام الفقیھۃ عن دلائلھا

اصول فقہ ایسے قوعد کے جاننے کا نام ہے کہ جن کے ذریعے سے دلائل کے ساتھ احکام فقیہ تک پہنچنا ممکن ہو


والله تعالی اعلم بالصواب


            کتبه 

 محمد فرقان برکاتی امجدی

٢٩/جمادی الآخر ١٤٤٢ھ،،١٢/فروری ٢٠٢١ء









ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. ماشاءاللہ یہ بہترین ویبسائٹ ہے اس سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا ہے

    جواب دیںحذف کریں

Created By SRRazmi Powered By SRMoney