کسی مومن کو جہنمی کہنا کیسا ہے؟

 سوال نمبر1597

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎۔

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص کو جہنمی کہنا یا کسی شخس کو جنتی کہنا  کیسا ہے؟ یہ تو اللّہ تعالی ہی جانتا ہے کہ کون جنتی یا کون جہنمی ہے مع حوالہ جواب عنایت فرماے مہربانی ہوگی  

المستفتی، احمد رضا مقام پونہ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون اللہ و رسولہ 

کسی بھی مومن کو جہنمی یا اس قسم کے الفاظ  جس کے ذریعے اس کو تکلیف پہنچے ناجائز و حرام ہےجیساکہ حدیث شریف میں ہے ،عن أبي هريرة رضي الله عنه قال ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تحاسدوا ولا تناجشوا ولا تباغضوا ولا تدابروا ولا يبيع بعضكم على بيع بعض و كونوا عباد الله إخوانا ، المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره ، التقوى ههنا ، ويشير إلى صدره إلى ثلاث مرات، بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم ، كل المسلم على المسلم حرام : دمه ، ماله و عرضه . حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : تم ایک دوسرے پر حسد نہ کرو ، نہ خرید وفروخت میں بولی بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکہ دو ، نہ باہم بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو [ یعنی اعراض و بے رخی مت کرو ] اور نہ تمہارا یک دوسرے کے سودے پر سودا کرے ، اور اے اللہ کے بندو تم بھائی بھائی بن جاؤ ، [ کیونکہ ] مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرے ، نہ اسے حقیر گردانے اور نہ اس کو [ مدد کے وقت ] بے سہارا چھوڑے اور آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : تقوی یہاں [ دل میں ] ہے ، ایسا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین بار فرمایا : نیز آپ نے فرمایا : ایک شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ، ہر مسلمان کا خون ،اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔الصحیح المسلم جلدثانی صفحہ ٣١٧مجلس برکات مبارکپور )

یعنی  اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں  *انما المؤمنون اخوۃ ،* تمام مومنین بھائی بھائی ہیں یہ فرما کر تمام مسلمانوں میں ایک ایسا رابطہ قائم کردیا ہے جس کی وجہ سے ہر قسم کی خیر خواہی و نصیحت کو ان پر واجب اور ہر قسم کے ضرر دہی و نقصان رسانی کو ان پر حرام ٹھہرادیا ہے بلکہ ہر وہ چیز جو اس رابطے کو مضبوط کرے اس کا حکم اور ہر وہ چیز جو اس میں خلل پیدا کرے اس سے منع کردیا۔ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ،عن عبداللہ بن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان سے اس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں(بخاری اور مسلم میں اس طریقے سے الفاظ ہیں ،،،، قال (عبداللہ) ان رجلا سأل النبی ﷺ ایّ المسلمین خیر قال من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ)

یعنی کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بہتر مسلمان کون ہے آپ نے فرمایا آیا کہ سلامت رہے مسلمان اس کی زبان سے اور اس کے ہاتھوں سے ۔(مشکوٰة المصابیح کتاب الایمان صفحہ ١٢)(مجلس برکات مبارکپور)


مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کی زبان سے ایسے نازیباجملے نہ نکلیں کہ جس سے دوسرے مسلمان کو تکلیف ہو نہ ہی اس کے ہاتھوں سے کسی پر کوئی ظلم ہو

رہی بات مومن کو جنتی کہنے کی توضرور کہنا چاہیے اور بےشک ہر مومن جنتی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے *،بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ۔اور خوشخبری دی  انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لئے باغ ہے جن کے نیچے نہریں رواں (جاری ہیں)(کنزالایمان س بقرہ آیت ٢٥)

 اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مومن جنتی ہے مگر وہ مومن جو گناہ گار ہیں بدکار ہیں اور اسی حالت میں انتقال کر گئے تو پروردگار ان کو سزا دے گا بعدہ اپنے فضل و کرم سے جہنم سے نکال کر پھر جنت عطا فرمائے گا

اور یہ بھی رب کی رحمت سے بعید نہیں کہ گنہگار کو بغیر سزا دیے ہیں معاف فرما دے۔واللہ ورسولہ اعلم 

عبیداللہ حنفی بریلوی

فتاوی مسائل شرعیہ









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney