کیا نا امیدی کفر ہے؟



سوال نمبر 2018

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔

الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کیا اللہ کی رحمت سے نا اُمید ہونا کفر ہے؟

سائلہ:معصومہ فاطمہ،انڈیا



وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:

اللہ عزوجل کی رحمت سے نا اُمیدی اور مایوسی ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے لیکن کفر نہیں ہے، کیونکہ کسی گناہ کبیرہ کے محض ارتکاب سے بندہ کافر نہیں ہوجاتا بلکہ وہ بدستور مسلمان ہی رہتا ہے، ہاں اگر کوئی اس عقیدے کے ساتھ مایوس ہوگا کہ اللہ عزوجل قادر نہیں ہے، یا میرے کو حالات کو نہیں دیکھ رہا ہے وغیرہ، تو ایسی مایوسی ضرور کفر ہے، لہٰذا مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے پاک پروردگار عزوجل کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھے اور اس کی رحمت سے بالکل بھی مایوس مت ہو کہ اس کی ممانعت وارد ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ہے:لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ۔(الزمر:٥٣/٣٩)

ترجمہ کنز الایمان:اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہو۔

   اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:وَلَا تَایْــٴَـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِؕ اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ۔(یوسف:٨٧/١٢)

ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہو بے شک اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔

   واضح رہے کہ یہاں کافروں سے مراد ناشکرے اور بے صبرے لوگ ہیں۔چنانچہ اس آیت کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی حنفی متوفی١٣٩١ھ لکھتے ہیں:یہاں کافر سے مراد ناشکرے اور بے صبر لوگ ہیں، رب فرماتا ہے:وَاشْكُرُوْا لِیْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ۔(نور العرفان)

   اور مومن کو اپنے رب سے اچھا گمان رکھنا چاہیے کہ حدیث شریف میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنْ ظَنَّ بِي خَيْرًا فَلَهُ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ»۔(المسند لاحمد بن حنبل،مسند ابی ھریرة رضی اللہ عنہ،برقم:٣٥/١٥،٩٠٧٦)

یعنی،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں، اگر وہ خیر کا گمان کرے، تو اس کیلئے خیر ہے اور اگر وہ شر کا گمان رکھے، تو اس کیلئے شر ہے۔

   اور حدیث شریف میں اللہ عزوجل کی رحمت سے نا اُمید ہونے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ علامہ علاء الدین علی متقی ہندی علیہ الرحمہ متوفی٩٧٥ھ روایت نقل کرتے ہیں:عن علی:انہ سئل ما اکبر الکبائر؟ قال: الامن من مکر اللہ، والایاس من روح اللہ، والقنوط من رحمة اللہ۔(کنز العمال،کتاب الاذکار من قسم الافعال،سورة النساء،برقم:١٦٧/٢/١،٤٣٢٢)

یعنی،حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ سے کبیرہ گناہوں میں سے بڑے گناہ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہونا، اور اس کی رحمت سے نا اُمید ہوجانا۔

   اور مایوسی کے گناہ کبیرہ ہونے سے متعلق امام شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد ذہبی متوفی٧٤٨ھ لکھتے ہیں:الکبیرہ التاسعة والستون:الایاس من روح اللہ تعالی والقنوط۔(کتاب الکبائر للذھبی مع شرحہ لابن عثیمین،الایاس من روح اللہ،ص٢٢٧)

یعنی،انہترواں کبیرہ گناہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا ہے۔

   اور علامہ ابن حجر ہیتمی شافعی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:الکبیرة الاربعون:الیاس من رحمة اللہ، عد ھذا کبیرة وھو ظاھر، لما فیہ من الوعید الشدید بل فی الحدیث التصریح بانہ من الکبائر، بل جاء عن ابن مسعود انہ اکبر الکبائر۔ملخصاً(الزواجر عن اقتراف الکبائر،الباب الاول فی الکبائر الباطنیة وما یتعبھا،١٤٨/١۔١٤٩)

یعنی،چالیسواں کبیرہ گناہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا ہے، مایوسی کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے اور یہی ظاہر ہے، کیونکہ اس بارے میں بہت سخت وعید وارد ہوئی ہے بلکہ حدیث شریف میں مایوسی کے گناہ کبیرہ ہونے سے متعلق تصریح موجود ہے اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مایوسی کبیرہ گناہوں میں سے بھی بڑا گناہ ہے۔

   اور محض کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب کفر نہیں ہے۔چنانچہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ متوفی١٥٠ھ اور ملا علی قاری لکھتے ہیں:(لا نکفر مسلماً بذنب من الذنوب) ای بارتکاب معصیة (وان کانت کبیرةً اذا لم یستحلھا) ای لکن اذا یکن یعتقد حلھا؛ لان من استحل معصیة قد تثبت حرمتھا بدلیل قطعی فھو کافر (ولا نزیل عنہ اسم الایمان) ای ولا نسقط عن المسلم بسبب ارتکاب کبیرة وصف الایمان۔

(الفقہ الاکبر وشرحہ منح الروض الازھر،لا یکفر مسلم بذنب ما لم یستحلہ،ص١٢٧)

یعنی،کسی مسلمان کو گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے ہم کافر قرار نہیں دیں گے، اگرچہ وہ گناہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہو،  بشرطیکہ وہ اسے حلال نہ سمجھتا ہو، یعنی جبکہ وہ اس کی حلت کا اعتقاد نہ رکھتا ہو، کیونکہ جو گناہ کو حلال سمجھے اور اس کی حُرمت قطعی دلیل سے ثابت ہو تو وہ کافر ہے، اور ہم مرتکبِ کبیرہ سے ایمان کے نام کو زائل نہیں کریں گے یعنی ارتکابِ کبیرہ کے سبب کسی مسلمان سے ہم وصفِ ایمان کو ساقط نہیں کریں گے۔

   اور امام نجم الدین ابو حفص عمر بن محمد نسفی علیہ الرحمہ متوفی٥٣٧ھ لکھتے ہیں:والکبیرة لا تخرج العبد المٶمن من الایمان ولا تدخلہ فی الکفر۔

(العقائد النسفیة مع شرحہ للتفتازانی،ص٢٥٣۔٢٥٥)

یعنی،کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے مومن بندہ ایمان سے نہیں نکلتا اور نہ ہی وہ اسے کفر میں داخل کرتا ہے۔

   اور علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی٧٩٢/٧٩١ھ لکھتے ہیں:ان مرتکب الکبیرة لیس بکافر والاجماع المنعقد علی ذلک۔

(شرح العقائد النسفیة،ص٢٦١)

یعنی،مرتکبِ کبیرہ کافر نہیں ہے اور اس پر اجماع منعقد ہے۔

  البتہ! بعض صورتوں میں مایوسی کفر ہے۔چنانچہ علمائے اہلسنت کی مصدقہ کتاب میں ہے:بعض اوقات مختلف آفات، دنیاوی معاملات یا بیماری کے معالجات واخراجات وغیرہ کے سلسلے میں آدمی ہمت ہار کر مایوس ہوجاتا ہے، اس طرح کی مایوسی کفر نہیں، رحمت سے مایوسی کے کفر ہونے کی صورتیں یہ ہیں:اللہ عزوجل کو قادر نہ سمجھے یا اللہ تعالیٰ کو عالم نہ سمجھے یا اللہ تعالیٰ کو بخیل سمجھے۔

(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،کفریہ افعال کے بارے میں سوال جواب،ص٤٨٣)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:۔

محمد اُسامہ قادری

پاکستان،کراچی

اتوار،١١/رجب،١٤٤٣ھ۔١٣/فروی،٢٠٢٢ء









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney